خطبات محمود (جلد 27) — Page 51
*1946 51 خطبات محمود کامیاب ثابت ہوں کہ ان کے ذریعہ غیر ممالک میں ایسی آواز پیدا ہو جائے کہ لوگوں کے قلوب ہل جائیں اور وہ ان کی طرف متوجہ ہو جائیں۔پھر یہ بھی سوال ہے کہ وہ اپنے گزاروں کے لئے ایسے راستے نکال سکیں کہ جن سے تبلیغ کو وسیع سے وسیع تر کیا جاسکے۔میں نے جو قدم اٹھایا ہے وہ دنیا کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی معنے ہی نہیں رکھتا۔دنیا میں دو ارب کے قریب آدمی ہے۔اگر ایک ہزار آدمیوں کے لئے ایک مبلغ رکھا جائے تو یہ سمجھ لو کہ دولاکھ مبلغین کی ہمیں ضرورت ہے لیکن ہم نے اس وقت تک جو مبلغین بھیجے ہیں اگر اُن میں پرانوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو چالیس کے قریب تعداد بنتی ہے۔جہاں دو لاکھ کی ضرورت ہو وہاں چالیس مبلغ بھلا کیا کام دے سکتے ہیں۔ہمارے ملک کے زمیندار کی اوسط خوراک پانچ چھٹانک سمجھی جاتی ہے۔پانچ چھٹانک کے معنی ہوئے پچھیں تو لے۔اور رتیوں کے لحاظ سے قریباً چوبیس سورتی بنی۔اور چاولوں کے لحاظ سے یہ قریباً انیس ہزار چاول بنے۔شہری لوگوں کی خوراک تو کم ہوتی ہے یہاں تک کہ بعض لوگ ایک یا ڈیڑھ چھٹانک پر ہی گزارہ کر لیتے ہیں لیکن ایک محنت کش مزدور کی عام خوراک انیس ہزار چاول ہوتی ہے۔اب تینتیس مبلغین کو دولاکھ کے مقابل میں رکھ کر دیکھ لو کہ کیا نسبت بنتی ہے۔اگر ہزار مبلغ ہوں تو دو سواں حصہ ہو گا۔اگر سو مبلغ ہوں تو ہزارواں حصہ ہو گا۔اور اگر تینتیس مبلغ ہوں تو وہ دولاکھ کا چھ ہزارواں حصہ بنیں گے۔دوسرے لفظوں میں ایک عام آدمی کی خوراک کے مقابل پر ہم دنیا کو روحانی خوراک کے تین چاول پیش کرتے ہیں۔کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ ایک محنت کش اور مزدور پیشہ زمیندار کو تم تین چاول صبح اور تین چاول شام دے کر زندہ رکھ سکتے ہو۔اگر ایک محنت کش مزدور کو تم تین چاول صبح اور تین چاول شام دے کر زندہ نہیں رکھ سکتے تو تم دنیا کو بھی تینتیس مبلغین کے ساتھ کسی صورت میں زندہ نہیں رکھ سکتے۔مگر یہاں تو سوال زندہ رکھنے کا نہیں بلکہ سوال زندہ کرنے کا ہے۔زندہ رکھنے کے لئے تو بے شک پانچ چھٹانک غذا کافی ہو جائے گی لیکن مردہ نہ سہی نیم مردہ کو بھی زندہ کرنے کے لئے یہ غذا کافی نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے لئے کئی سیر غذا کے خلاصہ کی ضرورت ہے۔چنانچہ ایسی حالت میں جو سٹیمولینٹ (Stimulant)2 استعمال کئے جاتے ہیں وہ سیر وں خوراک کا نچوڑ ہوتے ہیں۔پس زندہ کرنے اور زندہ رکھنے میں