خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 49

*1946 49 4 خطبات محمود خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں اور التجائیں کی جائیں کہ ہماری کاغذی ناؤ کو پار لگا دے ) فرمودہ 15 فروری 1946ء) تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔حضرت علی کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ عَرَفتُ رَبِّي بِفَسْخِ الْعَزَائِمِ 1 میں نے اپنے رب کو بڑے بڑے پختہ ارادوں کی ناکامیوں اور ان کی شکستوں کی وجہ سے پہچانا ہے۔یہ ہے تو ایک چھوٹا سا فقرہ لیکن در حقیقت اس میں انسانی زندگی کی تاریخ کا نچوڑ بیان کر دیا گیا ہے۔انسان اپنے ارادوں کی پختگی پر ایسا اعتبار کرتا ہے کہ بسا اوقات وہ خدا تعالیٰ کو بالکل ہی بھول جاتا ہے۔غیر مومن اور ایک دہریہ کی بات تو الگ رہی، ایک رسمی مومن کی بات تو الگ رہی، ایک کمزور مومن کی بات تو الگ رہی، میں نے اپنی ساری زندگی میں جو کہ مذہبی ماحول میں گزری ہے اور ان تمام تعلیمات کے باوجود جو قرآن کریم کے متعلق ہمارے پیشرو دیتے رہے ہیں یا میں دیتا رہا ہوں بالعموم احمدیوں کے منہ سے بھی یہ بات سنی ہے کہ یہ بات تو ضرور ہو کر رہے گی۔ہم نے یہ بھی کر لیا ہے، وہ بھی کر لیا ہے، یوں بھی کر لیا ہے، ؤوں بھی کر لیا ہے اب اس کے اندر تبدیلی کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔اور میں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ ان دعووں کو کلی طور پر تو نہیں لیکن جزوی طور پر غلط ہوتے بھی دیکھا ہے۔کیونکہ درمیان میں بیسیوں چیزیں ایسی آجاتی ہیں جن کو انسان اپنے عزم اور ارادہ سے دھوکا کھاتے ہوئے بالکل