خطبات محمود (جلد 27) — Page 465
*1946 465 خطبات محمود ہوں۔یہ کام ایسا ہے کہ جسے ہم مل کر ، کر سکتے ہیں۔تمہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا علم نہیں دیا اور دین کی ضرورتوں کا تمہیں علم نہیں دیا۔مجھے علم دیا ہے۔اور ان باتوں کے متعلق میں تمہیں بار بار توجہ دلاتارہتا ہوں مگر تمہارے نفس کی اصلاح اور نفس میں تبدیلی پیدا کرنے کا اختیار تم کو دیا ہے۔وہ مجھے نہیں دیا۔نفس کی پاکیزگی کے رستے بتانامیر اکام ہے لیکن ان پر چلنا اور ان پر قائم رہنا تمہارا کام ہے۔جب تک یہ دونوں باتیں جمع نہیں ہو جاتیں اُس وقت تک تم کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے بلکہ خوشی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔کامیابی تو مقدر ہے اور وہ ہو کر رہے گی۔جلد ہو یا بدیر۔لیکن تم کو خوشی نہ ہو گی کیونکہ تم سارے کے سارے اس کے وارث نہ بن سکو گے۔کیونکہ بعض لوگ کمزوریوں کی وجہ سے رستہ میں گر جائیں گے۔خوشی تو اسی وقت ہو سکتی ہے جبکہ سارا قافلہ منزلِ مقصود پر پہنچ جائے اور رستہ میں کوئی رہ نہ جائے۔پس میں پھر کہتا ہوں کہ وقت نازک سے نازک ہوتا جا رہا ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ نمازیں، زیادہ سے زیادہ روزے، زیادہ سے زیادہ عبادات ، زیادہ سے زیادہ اذکار، زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنے میں لگ جاؤ۔اب بے شک وہ زمانہ نہیں کہ دین کے خادموں کے تلواروں سے سر قلم کئے جائیں لیکن زندگیاں وقف کرنے کا اب بھی دروازہ کھلا ہے۔جو لوگ تمام زندگی وقف نہ کر سکتے ہوں وہ عمر کا کچھ حصہ وقف کر دیں۔اور جو اس کی بھی توفیق نہ رکھتے ہوں وہ کم سے کم سال میں ایک مہینہ ضرور وقف کریں۔کیونکہ بغیر ایسی قربانیوں کے تم خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب نہیں کر سکتے۔اتنی سہولتوں کے بعد جو شخص پیچھے ہٹتا ہے وہ اپنے عمل سے خود اپنے دل پر مہر لگاتا ہے۔اللہ تعالیٰ دل پر مہر لگانے کے معاملہ میں بندے کے فعل کے ماتحت چلتا ہے۔جب بندہ خود کمزوری دکھا کر اور نیکی سے بُعد اختیار کر کے خدا تعالیٰ سے کہتا ہے کہ اب میں اس قابل ہو گیا ہوں کہ میرے دل پر مہر لگائی جائے تو اللہ تعالیٰ دل پر مہر لگا دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مہر کو اپنی طرف اس لئے منسوب کیا ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ اب بغیر ہماری اجازت کے کوئی شخص اس مہر کو توڑ نہیں سکے گا۔پس بندے خود اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ہم چاہتے تو تمام دنیا کو ہدایت پر جمع کر دیتے۔ہمارا کام تو ہدایت دینا ہے ، گمراہ کرنا ہمارا کام نہیں۔پس اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو، اپنی کرد۔