خطبات محمود (جلد 27) — Page 464
*1946 464 خطبات محمود اپنی توفیق کے مطابق حصہ لیتا ہو۔اور جب وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جائے تو کہہ سکے کہ مالی قربانیوں کی جتنی آوازیں میں نے سنیں اُن سب میں اپنی توفیق کے مطابق حصہ لیا۔اس میں شبہ نہیں کہ جماعت میں ہزاروں لوگ ایسے ہیں کہ جن کی مالی قربانیاں دیکھ کر دل خوش ہو تا ہے لیکن وہ ہزاروں ہی ہیں جو ہر قربانی کے وقت اور ہر مطالبہ کے وقت آگے آتے ہیں اور لا کھوں چُپ کر کے کھسک جاتے ہیں۔جب میں کوئی آواز اٹھاتا ہوں تو وہ ہزاروں پھر اپنے آپ کو پیش کر دیتے ہیں کہ لیجئے ہم حاضر ہیں۔لیکن وہ لاکھوں جو پیچھے ہیں ان کی مہر سکوت نہیں ٹوٹتی۔وہ دبکے ہوئے ایک طرف بیٹھے رہتے ہیں۔کبھی میں اُن کو اُن ہزاروں لوگوں کا نمونہ پیش کر کے ترغیب دلاتا ہوں اور کبھی میں ان کو قربانیوں سے پیچھے رہنے والوں کے عبر تناک انجام سنا کر ترہیب سے کام لیتا ہوں۔لیکن پھر بھی وہ پیچھے ہی رہنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ ہر اروں پھر آگے آجاتے ہیں۔کتنا صاف فرق نظر آتا ہے ادنیٰ ایمان میں اور اعلیٰ ایمان میں۔جو لوگ اپنے آپ کو قربانیوں کے لئے پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنے قریب کرتا جاتا ہے اور ان کا مزید قربانیوں کے لئے تیار رہنا بتا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو قریب کر رہا ہے۔ور نہ پہلی قربانی کے بعد ان کے دل میں خیال آتا کہ ہم قربانی کر چکے اب دوسروں کی باری ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔یہ تو پورا ہو کر ہی رہے گا لیکن ساتھ ہی ان کمزور ایمان والوں کا کام بھی تمام ہو جائے گا۔اگر انہوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو یہ زنگ بڑھتا جائے گا اور آخر وہ آنکھوں اور کانوں سے محروم ہو جائیں گے۔مجھے ان لوگوں کی کمزوریوں کا بہت فکر ہے۔مگر میں کیا کروں۔کوئی مشفق باپ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی اولاد اندھی، بہری ہو۔اور کوئی امام یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی جماعت کے کچھ لوگ اندھے، بہرے اور گونگے ہو کر خدا تعالیٰ کے سامنے جائیں۔ہم نے تو ساری دنیا کے دلوں کو تبدیل کرنا ہے اور انہیں بحر ظلمات سے نکالنا ہے۔پھر ہم کس طرح یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ ہماری جماعت کا ایک حصہ نابینا، بہرا اور گونگا ہو جائے۔مگر یہ کام ایسا ہے کہ صرف میری کوشش سے کچھ نہیں ہو سکتا۔بلکہ اس میں تمہاری اپنی کوشش کا بہت حد تک دخل ہے۔اگر تم لوگ خود اپنی اصلاح کا عزم کر لو تو پھر یہ کام آسان ہو جاتا ہے۔لیکن بغیر تمہاری کوشش کے میں تمہارے دلوں کو کس طرح بدل سکتا