خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 463

*1946 463 خطبات محمود ہجرت کر کے آنے والوں کا یہ دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ سلسلہ کی خدمت اور مرکز کی مضبوطی کے لئے قادیان آئے ہیں۔میں نے کہا تھا کہ ایسے تمام لوگوں کو چاہئے کہ وہ اپنے عمل سے اس کا ثبوت دیں اور پیچھے رہ کر اپنے عمل سے اپنے ایمان پر منافقت کی مہر ثبت نہیں کرنی چاہئے۔لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چودہ ہزار کی آبادی میں سے صرف نوے آدمیوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کیا۔اس میں شبہ نہیں کہ چودہ ہزار میں سے سات ہزار عور تیں ہوں گی اور پھر باقی سات ہزار مردوں میں سے بھی ساڑھے تین ہزار کے قریب بچے اور بوڑھے ہوں گے جن کو نکالنا پڑے گا۔اور کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اپنی مجبوریوں کی وجہ سے اس تحریک میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہوں گے۔بہر حال اڑھائی ہزار مرد قادیان میں ایسے ہیں جو اس تحریک میں حصہ لے سکتے ہیں۔اور اگر گرد و نواح کے احمدیوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد ساڑھے تین ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔اگر واقع میں انسان کے اندر تقویٰ ہو اور اس کے اندر یہ عزم ہو کہ میں اسلام کے غلبہ کے لئے ہر وقت کوشاں رہوں گا تو ایک مہینہ کا وقف کرنا کونسی مشکل بات ہے۔مگر تم میں سے بہتوں نے سنا اور سن کر پیٹھ پھیر کر چلے گئے اور اُن کی اتنی ہمت نہ پڑی کہ ساری عمر نہیں، دس پندرہ سال نہیں، ایک سال نہیں بلکہ بارہ مہینوں میں سے ایک مہینہ بھی وقف کر دیں۔کیا ایسے لوگوں کو اپنی عاقبت کا ذرا بھی فکر ہے ؟ کیا وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر وہ رات کو مر جاتے تو اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کے استقبال کے لئے آتے اور انبیاء ان کے سامنے ہاتھ جوڑتے کہ آپ مہربانی فرما کر جنت میں ضرور تشریف لے چلیں؟ ایسے لوگ سخت فریب خوردہ ہیں۔جو شخص سال میں سے ایک مہینہ بھی خدا تعالیٰ کے لئے قربان کرنے کو تیار نہیں وہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کس طرح امیدوار ہو سکتا ہے۔جو فرض اُن کے ذمہ تھا وہ پورا نہیں ہوا تو انعام کس بات کا؟ انعام تو خدمت بجالانے کے بعد ملا کرتا ہے۔کئی دفعہ سلسلہ کی طرف سے مختلف مالی مطالبے پیش ہوئے ہیں لیکن سوائے تھوڑے سے لوگوں کے باقی لوگ بدستور خاموش ہیں۔انسان مالی لحاظ سے اُسی وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے سر خرو ہو سکتا ہے جب یا تو اس نے اس قدر مالی قربانیاں کی ہوں کہ جس کے بعد وہ کہہ سکے کہ اب میں کنگال ہو گیا ہوں اور اب مجھ میں حصہ لینے کی توفیق نہیں۔یا پھر وہ ہر مالی مطالبہ میں