خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 387

*1946 387 خطبات محمود اسلام کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہے یا نہیں ؟ ہر ایک احمدی پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ سوچے کہ اس کا نفس اسلام کے لئے قربانی کے ہر مطالبہ کو پورا کرنے میں خوشی اور انبساط محسوس کرتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ اپنے نفس کو ایسا نہیں پاتا تو اُسے اپنے نفس کی فکر کرنی چاہئے کہ وہ کسی وقت اسے ہلاکت کے گڑھے میں نہ گرا دے۔جب تک ہم کلی طور پر دوسری دنیا سے قربانیوں میں فوقیت نہیں لے جاتے اُس وقت تک ہمارا اپنی منزل کے قریب پہنچنے کی خواہش کرنا بالکل عبث اور بے سود ہے۔قربانی کے جتنے رستے اور جتنے مراحل ہیں اُن سب کا طے کرنا ضروری ہے۔اور جو شخص قربانی کے ہر رستہ پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ شیطان کے آنے کے ہر رستہ کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ شیطان کے آنے کے بھی سینکڑوں رستے ہیں۔ان سب رستوں کو بند کرنے کے لئے مومن کا فرض ہے کہ ہر رنگ میں قربانی پیش کرتا جائے اور شیطان کے رستہ کو مسدود کرتا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر ہم پورے طور پر اپنے فرائض کو پہچانیں اور احمدیت جس رنگ میں ہم سے قربانی کا مطالبہ کرتی ہے، ہم کرتے چلے جائیں تو ہم تھوڑے سے ہی عرصہ میں اپنے آپ کو اس مقام پر پائیں گے جو دنیا کو محو حیرت بنادے گا۔لیکن یہ چیز صرف باتوں اور منہ کی لاف و گزاف سے نہیں حاصل و سکتی بلکہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنے سے حاصل ہو گی۔پس آج جماعت پر نازک وقت آگیا ہے اور ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ اپنے نفس کو ٹولے اور اپنے نفس کا بحیثیت قاضی کے محاسبہ کرے۔اگر اس میں کمزوری اور غفلت پائے تو اسے مجرم قرار دیتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔جس شخص نے باوجود اپنے نفس کے مجرم ہونے کے اسے بری قرار دیا وہ خدا کے سامنے جوابدہ ہو گا۔کیونکہ جس طرح ایک چور مجرم ہے اسی طرح وہ بیج بھی خدا تعالیٰ کا مجرم ہے جو ایک چور کو چور سمجھتے ہوئے بری قرار دیتا ہے۔جس طرح ایک خائن مجرم ہے اسی طرح وہ بیج بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک مجرم ہے جو ایک خائن کو خائن سمجھتے ہوئے بری قرار دیتا ہے۔پس جس شخص نے اپنے نفس کو ٹٹولنے کے بعد باوجود اسے مجرم پانے کے اس کے حق میں فیصلہ دیا اور اصلاح کی طرف قدم نہ اٹھایا تو اس نے توبہ کا دروازہ اپنے اوپر خود بند کیا۔لیکن جس شخص نے اپنے نفس کے خلاف فیصلہ دیا اور اسے مجرم گردانا تو اس کے لئے ہو