خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 386

* 1946 386 خطبات محمود دی جائے۔پس ایک طرف تو حکومتوں میں یہ احساس پید اہو چکا ہے کہ احمدیوں کی بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنا چاہئے اور دوسری طرف عَوَاهُ النَّاس میں بھی خاص بیداری کے آثار نظر آرہے ہیں۔اور ہندوستان میں اور ہندوستان سے باہر بھی لوگ احمدیت کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔اگر ایک طرف مخالفتیں زور پکڑ رہی ہیں تو دوسری طرف عَوَاهُ النَّاس میں بھی احمدیت کے متعلق تحقیق کی رو جاری ہے اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک اور مشرق سے مغرب تک لوگوں میں بیداری اور توجہ کا احساس بہت بڑھ گیا ہے۔یہ دونوں باتیں بیک وقت جماعت کے لئے خطرہ معلوم ہوتی ہیں کیونکہ اگر جماعت قربانی کے اعلیٰ مقام پر نہ ہو تو وہ مخالفت کی شدت کو برداشت نہیں کر سکتی اور خطرہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ سے پھسل نہ جائے۔اسی طرح اگر لوگوں میں زیادہ بیداری پیدا ہو جائے اور ہمارے پاس اتنے مبلغ نہ ہوں یا اگر مبلغ تو ہوں لیکن ان لوگوں کے پاس پہنچانے کے ذرائع ہمارے پاس نہ ہوں تو ایسے لوگ احمدیت کو قبول بھی کر لیں تو وہ احمدیت کی تعلیم سے پورے طور پر واقف نہیں ہوں گے۔اور بجائے اس کے کہ وہ احمدیت کے لئے تقویت کا موجب بنیں وہ قومی تنزل اور کمزوری کا موجب ہوں گے۔پس حکومتوں کی مخالفت بھی خطرے کا موجب ہے اور وہ ملک اور وہ علاقے جو ہمارے لئے اپنے دروازے کھول رہے ہیں وہ بھی خطرے سے خالی نہیں کیونکہ اگر ہم ان علاقوں کے لئے مبلغین کا انتظام نہیں کرتے تو ہم خدا کے حضور کیا جواب دیں گے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تمہیں اشاعت اسلام کے لئے مقرر کیا لیکن فلاں فلاں علاقے نے تم کو اپنے ملک میں تبلیغ کی دعوت دی اور تم نے قبول نہ کی۔بتاؤ اس وقت ہم کیا جواب دیں گے؟ جن لوگوں نے ہمیں دعوت نہیں دی اور وہ ہماری بات سنا پسند نہ کرتے تھے اس کے متعلق تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان کو سنانا چاہتے تھے لیکن انہوں نے ہماری بات ہی نہیں سنی۔لیکن جو لوگ سننا چاہتے تھے اور ہم اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے ان تک نہیں پہنچ سکے اُن کے متعلق خدا کے حضور ہم کیا جواب دیں گے ؟ یقینا یہ ایک ایسا سوال ہے کہ جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں اور ہم ایسے لوگوں کے متعلق بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔پس ہمارے دوستوں کو اپنے نفسوں کو ٹولنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ کیا ان کا نفس