خطبات محمود (جلد 27) — Page 372
خطبات محمود 372 *1946 کمزوریوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی غیرت ہی مرگئی ہے۔ورنہ ایک مسلمان جس میں غیرت باقی ہو وہ ان حالات کو دیکھ کر یقینا پاگل ہونے کے قریب ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی علیم سے سچی محبت رکھنے والے مسلمانوں کا مقابلہ ناممکن ہے۔چالیس کروڑ تو بہت بڑی تعداد ہے میں کہتا ہوں کہ آپ سے سچی محبت رکھنے والے اگر صرف چار کروڑ ہی مسلمان ہوں تب بھی دنیا کی کوئی طاقت ان کو مٹا نہیں سکتی۔چار کروڑ انسان کو مارنا کوئی معمولی بات نہیں۔انسان کا دل کانپ جاتا ہے۔یہودی صرف دو کروڑ ہیں اور دینی لحاظ سے انہیں مسلمانوں جیسی اہمیت بھی حاصل نہیں لیکن تمام یورپ کے لوگ ان کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے گھر میں سے ہی ان کے لئے جگہیں نکال رہے ہیں۔حالانکہ تمام دنیا کے مسلمان اس بات کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کے گھر میں آرام سے رہنے دیا جائے اور انہیں یہود کے رحم پر نہ چھوڑا جائے۔لیکن مسلمانوں کی اس بات کو جس قدر وقعت دی گئی ہے وہ سب پر عیاں ہے۔ہندوستان میں بھی مسلمانوں سے جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ اس بات پر شاہد ہے کہ آج مسلمان ہر لحاظ سے مغلوب ہو چکے ہیں اور وہ دوسروں کے نرغہ میں گھرے ہوئے ہیں۔پنڈت جواہر لال صاحب نہرو نے مسلم لیگ کے خلاف متواتر اپنے بیان میں ہندوؤں کو مخاطب کر کے کہا ہے کہ گھبراتے کس بات سے ہو۔آئین ساز اسمبلی میں اکثریت ہماری ہو گی، جو قانون چاہیں گے بنائیں گے۔ہم بندوقوں اور رائفلوں سے کیونکر ڈر سکتے ہیں (یعنی ہم تو ایٹم بم کی طاقت رکھتے ہیں) اب مسٹر جناح نے جب اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے گو کسی حد تک انہوں نے سخت الفاظ استعمال کئے ہیں جو نہیں چاہئیں تھے۔لیکن اگر حقیقت کو دیکھا جائے تو جو بات انہوں نے کہی ہے سچی ہے۔لیکن انگلستان کے اخباروں میں شور مچ گیا ہے اور ساری انگریز قوم چیخ اٹھی ہے کہ مشن کے ممبروں کی ہتک کی گئی ہے اور حکومت برطانیہ کی توہین کی گئی ہے۔گویا مسلمانوں سے جو سلوک کیا جائے ، ان کے حقوق جس طرح چاہیں پامال کئے جائیں ان کی پروا نہیں لیکن اگر مسلمان اپنے دکھ کا اظہار کریں تو ایک شور مچ جاتا ہے کہ بس حد ہو گئی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ مسلمان اس طاقت کے مالک نہیں سمجھے جاتے جس کے مالک