خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 371

*1946 371 خطبات محمود ان کے بیوی بچوں کو مسلمان بنایا جائے۔اگر ہم اعتراضات کرنے والوں کو قتل کرنے کی بجائے ہر سال دس ہزار ہند و یا عیسائی مسلمان بنالیں تو تم دیکھو گے کہ ان قوموں کے گھروں میں صف ماتم بچھ جائے گی اور ان کے اندر ایک ایسی جلن پیدا ہو گی جو ان کو کبھی چین نہ لینے دے گی۔مارے جانے سے تو قوم سمجھ لیتی ہے کہ ان لوگوں کا خاتمہ ہو گیا لیکن جو افراد زندہ ہی اپنی قوم میں سے نکل کر دوسری قوم میں جا ملیں تو وہ اپنی قوم کی مخالفت کرتے ہیں اور اپنی قوم کو کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ اپنی قوم کے لئے اکثر اوقات ہدایت کا موجب بن جاتے ہیں اور دوسرے حصہ کا دل جلانے کا موجب ہوتے ہیں۔یہی طریق ہے جو مسلمانوں کو ایک عظیم الشان کامیابی کی طرف لے جاسکتا ہے۔تعجب ہے آجکل جو سٹر اٹک ہے اس سے ہر مسلمان کے گھر میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے لیکن دو سو سال سے اس سے بڑی سٹرائک جاری ہے اُس کا مسلمانوں کو کوئی فکر نہیں۔اگر ان کو فکر ہو تا تو وہ دوسری اقوام اور دوسرے مذاہب کے مقابل پر نکلتے۔تبلیغ اسلام کے لئے دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچ جاتے لیکن بجائے اس کے دوسرے مذاہب کے مقابلہ میں کھڑے ہوں۔اسلام کی طرف سے مقابلہ پر کھڑے ہونے والوں کے رستے میں روک بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ حالت بہت افسوسناک ہے۔اگر وہ ہمیں مدد نہیں دے سکتے تو نقصان پہنچانے سے تو پر ہیز کریں اور ہمیں دشمنانِ اسلام سے نبرد آزما ہونے دیں۔لیکن مسلمانوں کی مخالفت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے مذاہب والے بھی تبلیغ سے ہمیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ مجھے آج ہی ایک خط قادیان سے موصول ہوا ہے۔ہم اپنے ایک مبلغ کے لئے سوڈان کا پاسپورٹ تیار کروا رہے تھے۔لیکن سوڈان کے حاکم نے اس وجہ سے پاسپورٹ دینے سے انکار کر دیا ہے کہ آپ کے یہاں آنے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوتے ہیں۔لہذا آپ کو یہاں آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم صلی للی تم کو گالیاں دینے والے مشنریوں کے وہاں آنے سے تو مسلمانوں کے جذبات مشتعل نہیں ہوتے لیکن رسول کریم صلی الم کی خوبیوں اور آپ کی تعلیم کو پھیلانے والے مبلغوں سے ملک کے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو تا ہے۔لیکن یہ تمام حالات اس سے پیدا ہوئے ہیں اور پیدا ہو رہے ہیں کہ عیسائی اور یہودی مسلمانوں کی