خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 373

*1946 373 خطبات محمود ہند و ہیں۔کانگرس جو چاہے مشن کے حق میں اور حکومت برطانیہ کے حق میں کہے۔وہ سب بجا ہے لیکن مسلم لیگ اگر اپنے حقوق کا مطالبہ کرے تو اس کے الفاظ ہر ایک کو چھتے ہیں اور شور بر پا ہو جاتا ہے کہ اب تو حد ہو گئی۔اس کی وجہ صرف اور صرف یہی ہے کہ مسلمانوں کو وہ طاقت حاصل نہیں جو کانگرس کو حاصل ہے۔یہ حالت ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایک بھیڑیا کسی نالے پر اوپر کی طرف پانی پی رہا تھا۔اسی اثناء میں ایک بکری کا بچہ بھی آگیا اور اس بھیڑیے سے نچلی طرف پانی پینے لگا۔بکری کے بچے کو دیکھ کر بھیڑیے کی نیت خراب ہو گئی اور اس نے ارادہ کیا، ہو نہ ہو کوئی بہانہ تلاش کر کے اس بکری کے بچے کو کھا جاؤں۔چنانچہ وہ بھیٹر یا اس بکری کے بچے سے مخاطب ہوا اور کہا نالائق ! تمہیں اتنی بھی خبر نہیں کہ میں پانی پی رہا ہوں۔تم نے آکر نالے کے پانی کو گدلا کر دیا۔بکری کے بچے نے کہا۔جناب! آپ اوپر کی طرف پانی پی رہے ہیں اور میں نچلی طرف پانی پی رہا ہوں، آپ کی طرف سے پانی میری طرف آرہا ہے نہ کہ میری طرف سے پانی آپ کی طرف جارہا ہے۔یہ جواب سن کر بھیڑیے نے ایک تھپڑ مار کر کہا۔نالائق ! آگے سے جواب دیتے ہو ، ہمارے ساتھ گستاخی سے پیش آتے ہو۔یہ کہہ کر اُس پر جھپٹا اور تکہ بوٹی کر دیا۔یہی حال مسلمانوں سے دوسری قوموں کا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ اگر کمزور آدمی معقول بات نہ کرے تو وہ مجرم اور اگر معقول بات کرے تو گستاخ بن جاتا ہے۔مسلمانوں کی یہ حالت اس لئے ہوئی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو چھوڑ دیا ہے اور اس وجہ سے ان کے اندر تشتت اور پراگندگی پید اہو گئی ہے۔مسلمانوں میں سے کوئی مغل ہے، کوئی سید ہے، کوئی پٹھان ہے اور کوئی راجپوت ہے۔یہ مختلف اقوام اور مختلف نسلیں ایک رشتہ کی وجہ سے متحد تھیں اور ان کو جوڑنے والی اور ان میں وحدت پیدا کرنے والی چیز خدا اور اس کے رسول کی محبت تھی۔جب وہ دلوں سے نکل گئی تو مسلمانوں کا شیرازہ بھی بکھر گیا۔جس طرح ایک کتاب کی جب جلد بندی ہو تو اس کے تمام اوراق مجتمع اور محفوظ رہتے ہیں لیکن جب اس کی جلد توڑ دی جائے تو اس کا ہر ورق دوسرے ورق سے جدا ہو جاتا ہے۔پس جب سے مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ، اس کے رسول اور اس کی کتاب کو چھوڑا ہے اُسی دن سے ان کا شیر ازہ پراگندہ ہو گیا ہے اور اسی دن سے وہ مغلوب ہو گئے ہیں۔پس ان باتوں سے اور