خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 341

*1946 341 خطبات محمود کسی تجربہ کار بڑھے کا ساتھ ہوناضروری ہے۔جب بڑھے وزیر نے بہت اصرار کیا تو شہزادہ مان گیا اور ایک صندوق لے کر اس کے پہلو میں شگاف کئے تاکہ وہ سانس لے سکے اور اسے اس صندوق میں بند کر کے اپنے ساتھ لے لیا۔جب برات وہاں پہنچی تو اس صندوق کو بھی سامان کے ساتھ ہی رکھ دیا گیا۔جب برات پہنچی تو لڑکی والوں نے برات والوں کے سامنے یہ شرط پیش کی کہ ہم شادی تب کریں گے کہ جب ہر ایک براتی ایک ایک بکر ا کھائے۔اس بات سے سب براتی گھبراگئے کہ فی براتی ایک ایک بکر اکھانا بالکل ناممکن بات ہے اور ہم یہ شرط پوری نہیں کر سکیں گے۔اُنہوں نے لڑکی والوں کی بہت منت سماجت کی کہ یہ شرط نہ لگائی جائے لیکن وہ نہ مانے اور کہا کہ یہ تو ہمارے رواج کے خلاف ہے۔آخر شہزادے کو بڑھا وزیر یاد آیا کہ اس سے اس کا حل پوچھنا چاہئے۔چنانچہ وہ گیا اور صندوق کھول کر بڑھے وزیر سے کہا کہ اب تمہاری ضرورت پیش آئی ہے۔لڑکی والوں نے یہ شرط پیش کی ہے کہ فی براتی ایک ایک بکر اکھاؤ۔وزیر نے کہا کہ ان سے کہہ دو کہ ہاں ہم کھائیں گے مگر پھر شر طیں بڑھاتے نہ جانا۔شہزادہ نے اپنے سسرال کو یہ پیغام دیا۔جب ادھر سے منظوری ہو گئی کہ اور شرطیں نہ ہوں گی تو اس نے منظور کر لیا اور بوڑھے وزیر سے پوچھا کہ اب کیا کریں؟ وزیر نے کہا ان سے کہو کہ ایک ایک بکر اباری باری لاتے جائیں کیونکہ ہمارے ہاں رواج اکٹھے کھانے کا ہے۔دو ہزار براتی میں ایک بکر ابھلا کتنی دیر ٹھہر سکتا ہے۔ایک ایک تگہ اٹھاتے تو بکر اغائب اور پھر دو ہزار بکرا ذبح کرنے اور بھوننے میں بھی چوبیس گھنٹے لگ جاتے ہیں۔اتنی دیر میں پہلا کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے۔چنانچہ براتیوں نے اس شرط کو پورا کر دیا اور اس بوڑھے وزیر کو دعائیں دیتے ہوئے کامیابی کے ساتھ واپس لوٹے۔یہ واقعہ کے لحاظ سے محض ایک کہانی ہے مگر سبق کے لحاظ سے ایک مفید حکمت پر مشتمل ہے۔پس ہر قوم میں نوجوانوں کی بھی ضرورت ہے اور بوڑھوں کی بھی ضرورت ہے۔کیوں نہ خدا تعالیٰ نے سارے آدمی نوجوان ہی بنا دیئے۔کیوں نہ خدا تعالیٰ نے سارے انسان بوڑھے ہی بنا دیئے۔کیوں نہ خدا تعالیٰ نے سارے انسان بچے ہی بنادیئے۔کیوں نہ خدا تعالیٰ نے سب انسان مر د ہی بنا دیئے۔کیوں نہ خدا تعالیٰ نے سب انسان عور تیں ہی بنادیں۔آخر اس کی