خطبات محمود (جلد 27) — Page 342
*1946 342 خطبات محمود کوئی تو وجہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جو خصوصیت بچے میں ہے وہ نوجوان اور بوڑھے میں نہیں۔جو خصوصیت نوجوان میں ہے وہ بچے اور بوڑھے میں نہیں اور جو خصوصیت بوڑھے میں ہے وہ بچے اور نوجوانوں میں نہیں۔بچہ فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتا ہے اور اُس کے منہ سے ہزاروں باتیں ایسی نکلتی ہیں جو بڑے بڑے عقلمندوں کے اندر سے نہیں نکلتیں۔بڑے آدمیوں کی حالت اس چشمہ کے مشابہہ ہے جو سو یا دو سو میل پر جا کر اپنا رستہ اختیار کرتا ہے لیکن دہانہ پر اس کی حالت اور ہوتی ہے۔بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو بچوں میں پائی جاتی ہیں اور جوانوں اور بوڑھوں میں نہیں پائی جاتیں۔بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو جوانوں میں پائی جاتی ہیں اور بچوں اور بوڑھوں میں نہیں پائی جاتیں۔بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو بوڑھوں میں پائی جاتی ہیں اور بچوں اور جوانوں میں نہیں پائی جاتیں۔بیسیوں باتیں ایسی ہیں جو عورتوں میں پائی جاتی ہیں اور مردوں میں نہیں پائی جاتیں۔انسانیت کے چمن کو ان چھ قسم کے پھولوں سے خوشنمائی حاصل ہوتی ہے۔یعنی مردوں میں سے کچھ بچے ہوں، کچھ جوان ہوں، کچھ بوڑھے ہوں۔اسی طرح عورتوں میں سے کچھ بچیاں ہوں، کچھ جوان لڑکیاں ہوں اور کچھ بوڑھی عورتیں ہوں۔یہ چھ پھول ہیں جن سے دنیا کے چمن کی رونق وابستہ ہے۔بچہ فطرت کے ماتحت بولتا ہے اور بیسیوں باتوں میں بڑے آدمیوں کو سبق دیتا ہے۔بڑے آدمی اس بات کے عادی ہوتے ہیں کہ وہ ہر بات سوچ سمجھ کر کریں لیکن بچہ سیدھی سادی بات کر دیتا ہے اور وہ تصنع سے پاک ہوتی ہے۔اس لئے بچے کی زندگی سے انسان کو کئی سبق حاصل ہوتے ہیں۔کیونکہ بچے کی فطرت بولتی ہے لیکن یہ چیز اس عمدگی سے بڑے آدمیوں کے اندر نہیں ملتی۔سوائے کسی حقیقی متقی اور پرہیز گار کے۔اور ایسے لوگ سو میں سے ایک یا ہزار میں سے ایک ہو سکتے ہیں۔ہندو، عیسائی اور مسلمان سب کے بچے فطرتِ صحیحہ پر پیدا ہوتے ہیں اور فطرت صحیحہ پر رہتے ہیں۔جب تک کہ ماں باپ ان کو خراب نہیں کرتے۔رسول کریم صلی اللہ ﷺ فرماتے ہیں كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَابَوَاهُ يُهَوّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَحِّسَانِه 1 کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنادیتے ہیں۔فطرت کی یہ خاصیت ہے کہ وہ ایک خدا پر ایمان رکھے۔سیدھی سادی بات کرے اور تصنع اور بناوٹ سے کام نہ لے۔جھوٹ