خطبات محمود (جلد 27) — Page 340
*1946 340 خطبات محمود اس کے نزدیک اس کے دینی مطالب اور دینی مقاصد اور دینی ضرورتیں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔پس جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ہمیں نوجوانوں کی بھی ضرورت ہے کیونکہ قربانی کے میدان میں ان کو بوڑھوں سے زیادہ اہمیت ہے اور ہمیں بوڑھوں کی بھی ضرورت ہے کیونکہ تجربہ اور دانائی کے میدان میں بوڑھوں کو نوجوانوں سے زیادہ اہمیت ہے۔ہمارے ہاں قصہ مشہور ہے کہ ایک بادشاہ کے بیٹے کی شادی تھی اور بیٹی والوں کا خیال تھا کہ یہ رشتہ نہ کیا جائے لیکن صفائی سے انکار بھی نہ کر سکتے تھے کیونکہ بدنامی سے ڈرتے تھے۔بادشاہ نے وزراء سے مشورہ طلب کیا کہ کیا کیا جائے؟ کوئی ایسی صورت بتاؤ کہ رشتہ بھی نہ ہو اور ہم بدنامی سے بھی بچ جائیں۔اُنہوں نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ وقت مقرر کرتے وقت آپ یہ بات پیش کریں کہ ہمارے ہاں بعض رسم و رواج ہیں اُن کی پابندی آپ پر لازمی ہو گی۔اُن رسوم میں سے ایک رسم یہ ہے کہ برات میں جتنے لوگ آئیں وہ سب کے سب نوجوان ہوں اور ان میں کوئی ایک بھی بوڑھا نہ ہو۔ان کا مطلب یہ تھا کہ نوجوانوں کے سامنے ہم کوئی رسم بطور امتحان پیش کر دیں گے۔نوجوانوں میں سوچ بچار کا مادہ کم ہوتا ہے وہ اس کو حل نہیں کر سکیں گے اور جوش میں آجائیں گے۔ہم کہیں گے کہ ہماری ہتک ہو گئی ہم شادی کے لئے تیار نہیں۔دوسرے بادشاہ کو جس کے لڑکے کی شادی تھی جب یہ بات پہنچائی گئی کہ برات میں سب کے سب نوجوان آئیں، کوئی بوڑھا نہ آئے تو وہ فوراً اس بات پر رضامند ہو گیا اور اس نے کہا اچھا ہے کہ نوجوان ہی خوش خوش ہنستے کھیلتے جائیں اور ہم ان پر بوجھ نہ بنیں اور ان کی خوشی میں خلل انداز نہ ہوں۔بادشاہ کے بوڑھے وزیر نے شہزادے سے کہا۔شہزادے! تمہارے باپ نے تو یہ شرط مان لی ہے کہ برات میں کوئی بوڑھا نہ آئے لیکن مجھے اس کی تہہ میں کوئی خاص بات معلوم ہوتی ہے جس طرح ہو مجھے ساتھ لے چلو۔شہزادے نے کہا جب یہ عہد ہو چکا ہے کہ برات میں کوئی بوڑھا نہیں آئے گا تو میں آپ کو کس طرح ساتھ لے جاسکتا ہوں۔وزیر نے کہا مجھے ایک صندوق میں بند کر لو اور اپنے ساتھ لے چلو۔تمہارے ساتھ میرا جانا بہت ضروری ہے کیونکہ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے خسر نے ضرور کوئی چالا کی کی ہے لہذا