خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 339 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 339

خطبات محمود 339 *1946 بعض خاص قسم کے کاموں کے لئے خاص قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔میں نے گزشتہ سالوں میں یہ تحریک کی تھی کہ گورنمنٹ کی ملازمت سے فارغ ہونے والے بجائے اس کے کہ گھروں میں بیٹھ رہیں اگر چند سال سلسلہ کی خدمت کریں تو سلسلہ کی کئی اہم ضرورتیں ان کے ذریعہ پوری ہو سکتی ہیں۔بعض کام ایسے ہیں جو نوجوانوں کے ہی سپر دکئے جاسکتے ہیں اور بعض کام ایسے ہیں جو بوڑھوں کے سپر د کئے جاسکتے ہیں۔بوڑھوں کی جگہ نوجوان نہیں لے سکتے اور نوجوانوں کی جگہ بوڑھے نہیں لے سکتے۔جہاں بھاگ دوڑ اور نئے نئے خیالات اور نئی نئی اُمنگوں کا سوال ہے نوجوان ہی مفید ہو سکتے ہیں کیونکہ بوڑھے ایک خاص خیال اور خاص نظریہ پر پختہ ہو جاتے ہیں اور نئے نئے خیال اُن کے دلوں میں پیدا نہیں ہوتے۔لیکن نوجوان جہاں کام کے میدان میں چست و چالاک ہوتے ہیں وہاں وہ غور و فکر اور مناسب سختی و نرمی کے میدان میں بوڑھوں کے مقابل پر کمزور ہوتے ہیں کیونکہ اس میدان میں تجربہ کی ضرورت ہے اور بوڑھے ہی تجربہ کار ہوتے ہیں۔نوجوان ہر نا پسندیدہ چیز کو مٹانے کے لئے تیار ہو جاتا ہے حالانکہ ہر نا پسندیدہ چیز کا مٹانا مناسب نہیں ہوتا اور ہو سکتا ہے کہ جن چیزوں کو وہ مٹانا چاہتا ہے وہ حقیقت میں نا پسندیدہ نہ ہوں بلکہ صرف اس کی نگاہ میں نا پسندیدہ ہوں۔لیکن اس کے مقابل پر ایک جذ بہ نوجوان میں ایسا پایا جاتا ہے جو بوڑھوں میں نہیں پایا جاتا اور وہ یہ کہ وہ بے دریغ جان دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔بارہا دیکھا گیا ہے کہ کئی نوجوانوں نے لغو سے لغو چیز کے لئے اپنی جان دے دی حالانکہ ایسا کرنے میں محض ان کے ذاتی میلان اور رغبت کا دخل ہوتا ہے۔اس سے در حقیقت فائدہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔پس جوانی کا زمانہ بھی نہایت اہم زمانہ ہے کہ انسان اس زمانہ میں ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے لیکن وہ اس عمر میں چیزوں کی ماہیت اور حقیقت سے پورے طور پر آگاہ نہیں ہو تا۔ایک لمبی عمر کے تجربہ کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ جن چیزوں کو میں بُرا سمجھتا ہوں وہ حقیقت میں اچھی ہوں اور جن کو میں اچھی سمجھتا ہوں وہ در حقیقت بُری ہوں۔اور جن چیزوں کو میں اپنے خیال میں اہمیت دیتا ہوں وہ لوگوں کے حالات اور ماحول کے مد نظر اس قابل ثابت نہ ہوں کہ ان کو اس قدر اہمیت دی جائے۔جس قوم نے دنیا کے سامنے مذہب کو پیش کرنا ہے