خطبات محمود (جلد 27) — Page 331
خطبات محمود 331 *1946 جہاں نظر، اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے وہاں چند اور چیزیں بھی ایسی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطیہ ہیں۔مگر انسان کی متواتر کوشش سے ان میں کمی بھی اور بیشی بھی ہو سکتی ہے۔ان میں سے ایک ذہن بھی ہے۔اگر انسان ذہن کی تیزی کے لئے کوشش کرے تو اس میں بہت حد تک چلا پیدا ہو سکتا ہے۔سینڈ و 1 نے ورزش کے جو اصول نکالے ہیں وہ ایسے نہیں جو پہلے کسی کو معلوم نہ تھے اور صرف اسی نے معلوم کئے بلکہ وہ طریقے لوگوں کو پہلے بھی معلوم تھے۔اس نے جو فرق پیدا کیا وہ صرف یہ ہے کہ اس نے ورزش کرنے والوں کو توجہ دلائی کہ ورزش کرنے والوں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ ہم کیا کچھ بنا چاہتے ہیں۔اور جو کوشش ہم کرتے ہیں اس کا طبعی نتیجہ ضرور نکلے گا۔اگر طبعی نتیجہ نہیں نکلتا تو ورزش کرنے والے کو جان لینا چاہئے کہ میرے اندر کوئی کمزوری ہے جس کی وجہ سے میرے جسم میں سڈول پن اور میرے اعصاب میں طاقت اور میرے مسلز میں قوت نہیں آرہی۔جس طرح ان چیزوں کو فردی رنگ میں تیز کیا جاتا ہے اُسی طرح ان چیزوں کو قومی اور ملی رنگ میں بڑھایا جاسکتا ہے۔اور جس طرح اس قوم کے افراد ان چیزوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں دوسرے آدمی اس طور پر فائدہ حاصل نہیں کر سکتے۔دنیا صرف مادی قواعد سے ہی نہیں چلتی بلکہ ان قواعد کے ساتھ کچھ نفسیاتی قواعد بھی ہیں جو ان مادی قواعد سے مل کر نتیجہ پیدا کرتے ہیں۔مثلاً حافظہ ہے۔یہ کسی کا کمزور اور کسی کا مضبوط ہوتا ہے۔بظاہر حافظہ کی کمزوری پیدائش سے تعلق رکھتی ہے۔ایک ہی ماں باپ سے پید اہونے والے بچوں میں سے کسی کا حافظہ تیز ہوتا ہے اور کسی کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ایک ہی خاندان کے افراد میں سے کسی کا حافظہ تیز ہوتا ہے اور کسی کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔لیکن باوجود اس کے حافظہ کو گھٹایا یا بڑھایا جا سکتا ہے۔بعض خاص قسم کے قواعد ہیں جن پر عمل کرنے سے قوتِ حافظہ تیز ہو جاتی ہے اور اُن قواعد کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو حافظہ کم ہو جاتا ہے۔حافظہ بے شک ایک طبعی چیز ہے لیکن ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اسے گھٹایا بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔قومی ترقی منحصر ہے قومی ذہن پر۔اگر افراد میں قومی ذہنیت پیدا نہیں ہوتی تو قوم کا ترقی کرنا بالکل محال ہے۔لیکن جو قومیں اپنے اندر قومی ذہنیت پیدا کر لیتی ہیں وہ دوسری قوموں پر