خطبات محمود (جلد 27) — Page 330
*1946 330 (24) خطبات محمود جماعت احمدیہ کو اپنی ذہنیت ملی رنگ میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے ) فرمودہ 5 جولائی 1946ء بمقام ڈلہوزی) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔بعض انسانی قوتیں اس قسم کی ہیں کہ بظاہر وہ قدرت کا ایک عطیہ معلوم ہوتی ہیں مگر اس کے ساتھ ان میں کمی بیشی کا بھی امکان ہوتا ہے اور وہ کمی بیشی فردی، قومی اور نسلی کوشش سے پیدا ہو سکتی ہے۔مثلاً بظاہر نظر، قدرت کا ایک عطیہ ہے اور دیکھنا طبیعت اور قانون کا ایک فعل ہے لیکن اس میں بھی کمی بیشی کی جاسکتی ہے اور کمزور نظر تیز کی جاسکتی ہے۔چنانچہ جب ہم زیادہ غور کے ساتھ دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بعض اقوام کی نظر تیز ہوتی ہے اور بعض اقوام کی نظر کمزور ہوتی ہے۔یہ فرق قوموں کے خاص پیشوں اور احتیاط کے نتیجہ میں ہوتا ہے۔پڑھنے لکھنے والی قوموں کی آنکھیں لمبی ہو جاتی ہیں اور اُن کی نظر کمزور ہو جاتی ہے۔بعض قسم کی پیشہ ور اقوام ایسی ہیں جن کی نظر بہت تیز ہوتی ہے۔گو اب وہ اقوام پائی نہیں جاتیں۔مثلاً شکاریوں کی ایک قوم ننلا بغدَ نَسل شکار کرتی چلی جاتی تھی اور شکار میں تیز نظر کی ضرورت ہے اُن کی نظر اس پیشہ کی وجہ سے تیز ہو جاتی تھی۔شکار ایک ایسا پیشہ ہے جس میں نظر کی تیزی کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔پس نظر کی متواتر مشق کی وجہ سے اور نظر کی تیزی کی طرف خاص توجہ ہونے کی وجہ سے نَسْلًا بَعْدَ نَسلِ ان اقوام کی نظر تیز ہوتی چلی جاتی تھی۔