خطبات محمود (جلد 27) — Page 332
*1946 332 خطبات محمود سبقت لے جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو اُٹھانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے ذہن کو تیز کر دیتا ہے اور جب کسی قوم کو گرانے کا فیصلہ کرتا ہے تو ان کے ذہن کو کمزور کر دیتا ہے۔حافظہ کی قوت بظاہر ان میں موجود ہوتی ہے لیکن جو ذہن غالب قوم کا ہوتا ہے وہ ان کا نہیں ہو تا۔وہ بات بات پر رُک جاتے ہیں اور اپنے اُلجھے ہوئے مسائل کو حل نہیں کر سکتے لیکن اگر کتابوں کے یاد کرنے کا سوال آئے تو وہ ایسی فرفر سناتے ہیں کہ ان کے حافظہ کی داد دینی پڑتی ہے۔لیکن باوجو د اس کے جب کبھی قومی مقابلہ کا وقت آتا ہے تو وہ ہار جاتے ہیں اور وہ قوم جو بظاہر ذہنی طور پر اور اعصابی طور پر کمزور نظر آتی تھی جیت جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے جماعتی ذہن کے متعلق فیصلہ فرما دیا ہوتا ہے کہ وہ جیت جائیں اور یہ لوگ جو جسم کے لحاظ سے ان جیت جانے والوں سے کم نہیں تھے ہار جاتے ہیں۔آخر کیا چیز تھی جس نے ان کو غالب اور ان کو مغلوب کر دیا؟ وہ قومی ذہن کی تیزی تھی۔ذہن ایک ایسی چیز ہے جو تمام انسانی قوی کی کنجی ہے۔قوتِ ارادی جو انسان کو کام کرنے پر آمادہ کرتی ہے اور ذہن کے ماتحت ہے اگر ذہن پورے طور پر صحیح خطرہ یا صحیح فائدہ کو نہیں سمجھے گا تو قوت ارادی بھی پوری تیاری نہیں کرے گی۔ذہن جتنا تیز ہو گا اتنی ہی قوتِ ارادی بھی تیز ہو گی۔کیونکہ ذہن تمام حالات کا جائزہ لیتا ہے اور قوت ارادی اس کے جائزہ کے مطابق تیاری کرتی ہے۔اگر ذہن حالات کو صحیح شکل میں پیش کرتا ہے تو قوت ارادی صحیح رنگ میں کام کرتی ہے اور اگر غلط طور پر پیش کرتا ہے تو قوتِ ارادی غلط قدم اٹھاتی ہے۔اگر کسی کا ذہن تیز نہیں تو صرف قوت ارادی اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔فرض کرو ایک شخص کی قوتِ ارادی بہت مضبوط ہے اور وہ فیصلہ کرتا ہے کہ میں پہاڑ سے گود پڑوں گا۔ایسے شخص کی قوت ارادی خواہ کتنی ہی مضبوط ہو۔وہ پہاڑ سے چھلانگ لگا کر بچ نہیں سکتا اور اس کی قوت ارادی کی مضبوطی اسے کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔تمام لوگ ایسے شخص کو پاگل اور بے وقوف کہیں گے۔اگر اسے ذہن بھی ملا ہو تا تو وہ اس حرکت سے اجتناب کر کے کسی معقول ذریعہ سے اپنے مقصد کے حل کی کوشش کرتا۔پس قوتِ ارادی کے ساتھ ذہن کی تیزی نہایت ضروری چیز ہے۔یہ خدائی قانون ہے کہ اگر انسان ان ذرائع کو استعمال کرے جو خدا تعالیٰ نے اذہان کو تیز کرنے کے لئے مقرر کئے ہیں تو اذہان میں بہت حد تک تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔