خطبات محمود (جلد 27) — Page 329
*1946 329 خطبات محمود میں ابو سفیان کا سر تن سے جدا کر دوں۔1 کچھ دیر کے بعد ابو سفیان نے اپنا ہاتھ بیعت کے لئے نکالا اور عرض کیا یا رَسُولَ الله ! بیعت کرنا چاہتا ہوں۔جب ابو سفیان بیعت کر چکے تو حضرت عمرؓ نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! انہوں نے جھوٹی بیعت کی ہے۔يَا رَسُولَ اللہ ! اگر آپ مجھے آنکھوں کا اشارہ کرتے تو میں ان کی گردن اڑا دیتا۔آپ نے فرمایا نبی خائن نہیں ہو تا۔میں تمہیں کس طرح آنکھوں کا اشارہ کر سکتا تھا۔پس رسول کریم صلی الی ایم کا یہ طریق تھا کہ آپ بہت ہوشیاری اور احتیاط سے کام کرتے تھے۔ہماری جماعت کو بھی ان دنوں بہت ہوشیار اور چوکس رہنا چاہئے اور ہر قوم اور ہر فرقہ کی کارروائیوں اور جتھے بندیوں سے مجھے یا ناظر اعلیٰ کو مفصل طور پر اطلاع دیتے رہنا چاہئے۔اس کے علاوہ میں بیرونی جماعتوں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انہیں مقامی طور پر بھی اپنی تنظیم کا خیال رکھنا چاہئے۔ان میں پراگندگی اور تشتت نہیں ہونا چاہیئے ورنہ وہ خود حفاظتی کی تدابیر نہیں کر سکیں گی۔جماعت کے کارکنان کو خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ بیرونی جماعتوں کی تنظیم ان ایام میں خاص طور پر نہایت ضروری ہے۔میں جماعت کو پھر دوبارہ توجہ دلاتا ہوں کہ اسے اپنے ارد گرد اور اپنے ماحول کا بغور مطالعہ کرتے رہنا چاہئے اور ہر قسم کی اطلاعات مرکز کو بھجواتے رہنا چاہئے۔اور جن لوگوں کو ایسی تیاریاں کرتے ہوئے پائیں اُنہیں سمجھانے کی کوشش کریں کہ وہ فتنہ و فساد کر کے اپنے ملک کو خونریزیوں کا اکھاڑہ نہ بنائیں۔اور ساتھ ہی بالالتزام دعائیں کرنی چاہئیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو ان خطر ناک حالات سے بچائے۔آمین۔“ (الفضل 2 جولائی 1946ء) 1: سیرت ابن ہشام جلد 4 صفحہ 42 تا 46 مطبوعہ مصر 1936ء