خطبات محمود (جلد 27) — Page 299
خطبات محمود 299 *1946 لیکن آواز آنے کے بعد کسی کا پیچھے رہ جاتا یقیناً افسوس کی بات ہوتی ہے۔رسول کریم کئی ملینیم جب بدر کی جنگ کے لئے تشریف لے گئے تو بعض کا خیال تھا کہ اس وقت کوئی بڑی جنگ نہیں ہو گی، محض کفار کے ایک تجارتی قافلہ سے مقابلہ ہو گا۔اور گو رسول کریم صلی ا تم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے علم ہو چکا تھا کہ لڑائی ہو گی مگر آپ نے اس کو ظاہر نہیں کیا۔اس وجہ سے بہت سے مخلص صحابہ مدینہ میں ہی رہ گئے، ساتھ نہیں گئے۔وہاں پہنچے تو لڑائی ہو گئی اور لڑائی بھی ایسی شان کی کہ جس نے مکہ کی شان و شوکت کو بالکل ہلا دیا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پید اہو گیا کہ مکہ کی طاقت ایسی نہیں جس کا مقابلہ نہ ہو سکے۔جب یہ خبریں مدینہ میں پہنچیں اور لشکر اسلام بدر سے واپس لوٹا تو لوگ ان صحابہ کے ارد گرد جو لڑائی میں شامل ہوئے تھے جمع ہو جاتے اور کہتے لڑائی کا کوئی حال سناؤ۔وہ سناتے کہ ہم اس اس طرح رسول کریم صلی کریم کے ارد گرد لڑے اور ہم نے اپنی جانیں اسلام کے لئے قربان کیں۔دشمن اتنی زیادہ تعداد میں تھا اور ہماری تعداد اس قدر قلیل تھی۔پھر باوجود اس کے کہ وہ بڑے بڑے ماہر اور تجربہ کار جرنیل تھے ہمارے بچے نکلے اور انہوں نے ابو جہل کو جو تمام فوج کا سپہ سالار تھا مار گرایا۔میں نکلا تو فلاں کو قتل کر دیا۔فلاں نے فلاں کو قید کر لیا۔وہ لوگ جو مجلس میں بیٹھے ہوتے تھے وہ ان باتوں کو سنتے تو لطف اٹھاتے اور ان کی بہادری کی ان کو داد دیتے۔لیکن مخلصین کا دل ان واقعات کو سن کر اندر ہی اندر پگھلتا رہتا اور انہیں افسوس ہو تا کہ قربانی کا ایک موقع آیا تو ہم پیچھے رہ گئے اور یہ لوگ دوڑتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے قرب کے میدان میں بڑھ گئے۔ایسے ہی لوگوں میں سے ایک مالک انصاری بھی تھے۔جس وقت صحابہ اپنے واقعات سناتے اور دوسرے لوگ اُن کو داد دیتے ہوئے کہتے کہ کمال کر دیا، حد کر دی، اتنی قربانی کسی اور نے کیا کرنی ہے، تم نے تو ایثار کا بے مثال نمونہ دکھایا ہے۔اس وقت مالک غصہ سے بھر جاتے اور کہتے یہ کونسی بات ہے؟ میں ہو تا تو بتاتا کہ لڑائی کیا چیز ہے۔اب بظاہر یہ ایک جھوٹی لاف زنی ہے، بظاہر یہ بزدل آدمی کا کام ہے کہ وہ خود تو کوئی کام نہیں کرتا لیکن جب کوئی دوسرا کام کرتا ہے تو اسے طعنہ دینے لگ جاتا ہے۔لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حقیقی مخلص اور بہادر انسان کے منہ سے بھی مجبوراً ایسے فقرے نکل جاتے ہیں۔چونکہ عام طور پر صحابہ کو یہ خیال تھا کہ لڑائی