خطبات محمود (جلد 27) — Page 300
*1946 300 خطبات محمود رض نہیں ہو گی اور رسول کریم صلی اللہ تم کسی خطرہ میں نہیں جارہے اس لئے بہت سے صحابہ باوجود اخلاص اور بہادری کی روح اپنے اندر رکھنے کے پیچھے رہ گئے تھے۔چنانچہ بدر کے موقع پر جب لڑائی کی صبح آئی تو رسول کریم صلی نیلم کی خدمت میں صحابہ حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا يَا رَسُولَ اللہ ! میدان جنگ سے پیچھے فلاں جگہ ہم نے ایک سٹیج تیار کر دیا ہے آپ وہاں بیٹھئے اور خدا تعالیٰ سے اسلام اور مسلمانوں کی فتح کے لئے دعائیں مانگئے۔پھر انہوں نے کہا يَا رَسُول اللہ ! یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت ہم اس جنگ میں کامیاب نہ ہو سکیں اور سب کے سب مارے جائیں۔صحابہ نے یہ نہیں کہا کہ ہم شکست کھا جائیں یا بھاگ جائیں کیونکہ وہ شکست کھانا اور بھاگنا جانتے ہی نہیں تھے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! ہو سکتا ہے کہ ہم سب کے سب مارے جائیں۔يَا رَسُولَ اللہ !ہم نے آپ کی حفاظت کے لئے سب سے تیز تر اونٹنی جو ہمارے قافلہ میں تھی چن کر وہاں باندھ دی ہے۔اسی طرح ایک دوسری اونٹنی ابو بکر کے لئے باندھ دی ہے جو ہم سب میں سے زیادہ قابل اعتبار آدمی ہے اور جس کے متعلق ہم ہر طرح یقین رکھتے ہیں کہ وہ آپ کی حفاظت کرے گا۔يَارَسُوْلَ الله ! اگر ہم سب کے سب مارے جائیں تو آپ اور ابو بکران اونٹوں پر سوار ہو کر مدینہ چلے جائیں۔وہاں ہمارے ایسے بھائی موجود ہیں جو قربانی اور اخلاص میں ہم سے کم نہیں۔مگر ان کو پتہ نہیں تھا کہ جنگ ہونے والی ہے۔يَا رَسُولَ اللہ !اگر انہیں پتہ ہوتا کہ جنگ ہونے والی ہے تو وہ پیچھے رہنے والوں میں سے نہ ہوتے۔پس آپ اُن کے پاس جائیے۔ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے مرنے کے بعد اسلام کے جھنڈے کو کھڑا ر کھیں گے اور ہر قسم کی قربانی سے کام لیں گے۔2 پس صحابہ نے بھی شہادت دی ہے کہ مدینہ میں پیچھے رہنے والوں میں کثرت ایسے لوگوں کی تھی جو بدری صحابہ سے کم نہیں تھے بلکہ رسول کریم صلی للی کم اور دین اسلام کی حفاظت کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔مالک بھی انہیں میں سے ایک تھے۔جب وہ دیکھتے کہ صحابہ اپنی بہادری کے واقعات سنارہے ہیں اور لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ ہم نے یوں قربانیاں کیں تو وہ بے تاب ہو کر کہتے میں ہوتا تو تمہیں دکھاتا کہ کس طرح لڑائی کی جاتی ہے۔