خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 298

*1946 298 خطبات محمود دیکھا کہ ان میں سے ہر سپاہی پیاس کی شدت سے فوت ہو چکا تھا۔1 مگر اس کام میں تو ایک خوشی بھی تھی۔ہر مرنے والا یہ سمجھتے ہوئے مرا کہ میں اسلام کے لئے قربان ہو رہا ہوں۔میں اپنے آرام کو اپنے بھائی کے لئے قربان کر رہا ہوں اور دیکھنے والوں کے لئے بھی خوشی تھی کہ یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس کے ذریعہ ہم اپنی اولادوں کو ہمیشہ زندہ رکھ سکتے ہیں اور انہیں بتاسکتے ہیں کہ تمہارے باپ دادا کس طرح قربانی کیا کرتے تھے۔مگر ہمارا حال ایسا ہے کہ اس میں ہمارے لئے کوئی بھی خوشی کی بات نہیں۔اگر ہم مختلف ممالک کے لئے تبلیغ کا سامان مہیا نہیں کریں گے تو وہ کونسا سبق ہو گا جو اس ذریعہ سے ہم اپنی اولادوں کے لئے چھوڑ جائیں گے اور وہ خوش ہوں گے کہ ہمارے باپ دادا بڑی قربانی کرنے والے تھے۔ان پیاس سے مرنے والوں کا ذکر سن کر تو آج بھی ہر شخص کا دل خوشی سے بھر جاتا ہے اور وہ کہتا ہے میرے باپ دادا کتنے بزرگ تھے کہ موت کی حالت میں بھی وہ اپنی ضروریات پر دوسرے کی تکلیف کو مقدم رکھتے تھے اور اپنی جان دوسروں کو دینے کے لئے تیار رہتے تھے۔لیکن ہم کیا کہیں گے اور کونسا نمونہ اپنی نسلوں کے لئے چھوڑ جائیں گے۔کیا ہماری نسلیں یہ کہیں گی کہ ہمارے بزرگ اتنے بلند پایہ اور اتنا شاندار کام کرنے والے تھے کہ لوگ ان سے تبلیغ کے لئے آدمی مانگتے تھے اور وہ نہیں دیتے تھے ؟ سلسلہ ان سے تبلیغ کے لئے روپیہ مانگتا تھا اور وہ روپیہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔ان کو اپنے آرام اور اپنی آسائش کا تو ہر وقت خیال رہتا تھا لیکن خدا اور اس کے رسول کا نام پھیلانے کے لئے ان کے دلوں میں کوئی جوش پیدا نہیں ہوتا؟ یا اتنا جوش پیدا نہیں ہوتا تھا جتنا ضروری تھا؟ آخر غور کرو کہ کیا ہم ان باتوں پر فخر کر سکتے ہیں؟ یا کیا ہماری اولادیں ان باتوں پر فخر کر سکتی ہیں۔یا اگر ہماری طرف سے یہ باتیں پیش کی جائیں تو کیا ہماری اولادیں بلند حوصلہ ہو سکتی ہیں؟ یا کیا ان باتوں کے ذریعہ وہ اپنے ایمانوں کو تازہ کر سکتی ہیں۔اس قسم کی باتیں تو ہمارے سر آئندہ نسلوں میں نیچا کر دیں گی اور ان کی ہمتوں کو پست اور قوتوں کو مضمحل کر دیں گی۔جب تک کسی کے کان میں امام کی طرف سے آواز نہیں آتی اس وقت تک ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ مجھے ابھی آواز نہیں آئی۔اگر آواز آئی تو میں سب کچھ اسلام کے لئے قربان کر دوں گا۔