خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 158

*1946 158 خطبات محمود نکال سکیں اور بیرونی کالجوں میں داخل ہونے والے بھی سو کی تعداد میں نکلیں تب جا کر ہماری ضروریات ایک معقول عرصہ میں پوری ہو سکتی ہیں۔لیکن جس طرح کام روزانہ بڑھتا چلا جاتا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے تو یہ اندازہ بھی کافی نہیں۔میں نے خدا تعالیٰ کا ہمیشہ یہ سلوک دیکھا ہے کہ جو کام ہم شروع کرتے ہیں اس میں زیادتی ہی زیادتی ہوتی چلی جاتی ہے۔مثلاً ہر سال ہم جلسہ گاہ کو بڑھا دیتے ہیں لیکن پھر بھی وہ جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔پہلے مسجد میں جلسہ ہوتا تھا لیکن اب ہم ہر سال جلسہ گاہ کو وسیع کرتے ہیں۔پس یہ اہم ضروریات ہیں جن کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔مجھے افسوس ہے کہ جماعت نے پورے طور پر اپنی ذمہ داری کو نہیں سمجھا۔کالج کے چندہ کی اپیل پر پندرہ سولہ دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک چالیس ہزار کے قریب وعدے آئے ہیں اور صرف اُنگلیوں پر شمار کئے جانے والے افراد کے وعدے آئے ہیں۔چھبیس ہزار کے وعدے تو صرف چار آدمیوں کی طرف سے ہیں۔دونے دس دس ہزار کے وعدے کئے ہیں۔ایک نے پانچ ہزار کا اور ایک نے ایک ہزار کا۔ایک تو دس ہزار کا وعدہ میرا ہے، دوسرادس ہزار دینے کا وعدہ سیٹھ محمد صدیق صاحب کلکتے والے اور ان کے بھائی سیٹھ محمد یوسف صاحب نے کیا ہے۔تیسرے پانچ ہزار کا وعدہ سیٹھ عبد اللہ بھائی کی طرف سے ہے اور چوتھے ایک ہزار کا وعدہ شیخ امام دین صاحب کا ہے جو بمبئی کی طرف تجارت کرتے ہیں۔گویا اس میں چھبیس ہزار کے وعدے صرف چار آدمیوں کے ہیں۔چھ ہزار کا وعدہ قادیان کی لجنہ کا ہے۔اس طرح بتیس ہزار ہو گئے۔اگر قادیان کی لجنہ کو ایک فرد شمار کیا جائے تو پانچ افراد نے بتیس ہزار چندہ دیا ہے اور پانچ لاکھ افراد نے چھ سات ہزار۔میرے نزدیک اس کی بہت بڑی ذمہ داری بیت المال پر بھی ہے۔بیت المال والے اتنی کوشش نہیں کرتے جتنی تحریک جدید والے کرتے ہیں۔میں جس دن تحریک جدید کے چندہ کی تحریک کرتا ہوں اسی دن شام کو پیغام پہنچ جاتا ہے کہ آپ کی تحریک سے اتنے وعدے آئے اور یہ اثر ہو کہ اس تحریک کو کئے ہوئے سولہ دن ہو گئے ہیں لیکن بیت المال والوں نے مجھے ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا تھا کہ کیا حال ہے۔میں نے خود دریافت کیا تو اب جمعہ میں آتے ہوئے ان کا جواب پہنچا۔یہ قدرتی بات ہے کہ اگر مجھے بتایا جاتا کہ تحریک کا کیا اثر ہوا ہے