خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 159

*1946 159 خطبات محمود تو میرے اندر زیادہ جوش پیدا ہوتا اور میں زیادہ زور سے تحریک کرتا۔میں سمجھتا ہوں کہ خود قادیان اب اتنابڑا ہو چکا ہے اور اتنا کام یہاں پیدا ہو چکا ہے کہ قادیان والوں کو ہی چندے کا کثیر حصہ برداشت کرنا چاہئے۔موجودہ حالات کے لحاظ سے قادیان والے اگر صحیح قربانی کریں تو پچاس ہزار کے قریب چندہ دے سکتے ہیں مگر تاجروں کا حصہ ایسا ہے جو چندہ دینے میں بہت سست ہے۔میں نے بیت المال کو توجہ دلائی تھی کہ ان کی آمد کی صحیح تشخیص کرنی چاہئے ور نہ وہ ہمارے لئے ناسور بن جائیں گے جو باقی جماعت کو کھانا شروع کر دیں گے مگر بیت المال نے اس طرف توجہ نہیں کی۔انہیں چاہتے کہ وہ ہر دکاندار کے پاس ایک کلرک بٹھا دیں جو دن بھر یہ دیکھتا رہے کہ اس کی کتنی پکری ہوئی ہے اور پھر اس سے پوچھا جائے کہ جب تمہاری آمد زیادہ ہے تو پھر تم چندہ کیوں کم دیتے ہو ؟ میں سمجھتا ہوں کہ اس طریق پر اگر دس ہزار روپیہ بھی خرچ کرنا پڑے تب بھی بیت المال کو یہ روپیہ خرچ کرنا چاہئے۔اگر اس کا کوئی اور فائدہ نہیں ہو گا تو کم از کم اس طرح حقیقت تو کھل جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے تاجروں کی کیا حالت ہے۔اب تو یہ کیفیت ہے کہ ہمارے تاجر سلسلہ کا ہزاروں روپیہ دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔دس روپے چندہ دیتے ہیں اور پھر اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں کہ ہماری اس قربانی پر لوگ کتنی واہ وا کرتے ہیں۔قادیان ہمیشہ چندوں میں اول رہا ہے اور اب بھی اول ہے مگر امراء کی وجہ سے نہیں جو سارا روپیہ اپنے نفس پر خرچ کرتے ہیں یا زمینیں خریدتے اور جائیدادیں بناتے ہیں بلکہ غرباء کی وجہ سے اول ہے جو اپنے پیٹ کاٹ کر اور اپنے بیوی بچوں کے پیٹ کاٹ کر چندہ دیتے اور سلسلہ کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔پس ہمیں اس روپیہ کے لئے فکر نہیں بلکہ فکر ہے اس جذام کی جو امر اء اور تاجروں کے جسم میں پیدا ہو رہا ہے کہ اگر وہ ہمارے اندر پیدا ہو گیا تو ہم باقی جسم کو کس طرح بچائیں گے۔میں تو کہوں گا کہ بے شک بیت المال والے ان سے روپیہ لے کر دریائے بیاس میں پھینک دیں۔مگر ان کی جیبوں میں سے ضرور نکال لیں تاوہ بے ایمان ہو کر نہ مریں۔اگر قادیان کے لوگ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں تو بہت سے لوگ اس میں حصہ لے سکتے ہیں اور ان کو لینا چاہئے۔باقاعدہ تاجروں کے علاوہ یہاں بعض لوگ ایسے بھی ہیں