خطبات محمود (جلد 27) — Page 157
*1946 157 خطبات محمود کوئی شخص لنگڑے گدھے پر انگلستان جانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ احمق ہے کیونکہ جب لوگ ریلوں میں جارہے ہیں، ہوائی جہازوں میں جا رہے ہیں، بحری جہازوں میں جا رہے ہیں، اس وقت وہاں گدھے پر جانے کی کوشش کرنا کسی احمق کا ہی کام ہو سکتا ہے۔اسی طرح اگر ہم تعلیم پھیلانے کے لئے وہ ذرائع استعمال نہ کریں گے جو اعلیٰ سے اعلیٰ اور جلد سے جلد تعلیم دلانے والے ہوں تو دوسری اقوام کے مقابلہ میں ہم ٹھہر نہیں سکتے اور اس وقت تک کام چلانے والے نئے لوگ ہمیں نہیں مل سکتے۔یہ پچھلی غفلت کا ہی نتیجہ ہے کہ صدر انجمن احمد یہ کونئے کار کن نہیں ملتے۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے میں نے تحریک جدید کے واقفین میں سے پانچ چھ گریجوایٹ نائب ناظر کے طور پر لگا دیئے ہیں تاکہ کام میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔لیکن صدر انجمن احمدیہ کے ناظروں نے اس طرف کبھی بھی توجہ نہیں کی تھی اور انہیں کبھی یہ خیال ہی نہ آیا تھا کہ ہم نے بھی بیمار ہونا اور مرنا ہے۔مگر باوجو د صدر انجمن احمدیہ کو تحریک جدید کے چھ سات آدمی دے دینے کے ابھی ہم اس کی تمام ضروریات کو پورا نہیں کر سکے اور ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہمیں ابھی اور ایسے پچیس آدمیوں کی ضرورت ہے مگر ہماری جماعت میں سے ہر سال صرف چار پانچ گریجوایٹ نکلتے ہیں۔کچھ ان میں سے نوکری اختیار کر لیتے ہیں اور کچھ تجارت کر لیتے ہیں باقی اگر کوئی بچے تو وہ ہمارے پاس آسکتا ہے۔فرض کرو ہمیں ہر سال ایک آدمی مل جاتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ سو سال میں جا کر ہماری یہ ضروریات پوری ہوں گی۔اس کے علاوہ اور بھی بہت سی جگہیں ہیں جہاں ہمیں گریجوایٹس کی ضرورت ہے۔اور اگر تمام ضروریات کو شامل کیا جائے تو ہمیں تین چار سو گریجوایٹس کی ضرورت ہے۔کالج میں پڑھانے والے گریجوایٹ چاہئیں، تبلیغ کے لئے باہر جانے والے گریجوایٹ چاہئیں، صیغوں کے انچارج گریجوایٹ چاہئیں اور یہ ضروریات اسی وقت پوری ہو سکتی ہیں جب ڈیڑھ دوسونو جوان ہر سال کالجوں میں سے بی اے پاس ہو کر نکلیں۔اگر اتنی تعداد سالانہ نکلے تب دس پندرہ سالوں میں ہماری ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔پس ہمیں چاہئے کہ ہم اپنا کالج مکمل کریں اور کوشش کریں کہ زیادہ سے زیادہ طالب علم یہاں داخل ہوں تاکہ ہم اپنے کالج سے سو گریجوایٹ سالانہ