خطبات محمود (جلد 27) — Page 150
*1946 150 خطبات محمود اُلٹ احساس پیدا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ شاید یوں ہونا چاہئے۔چنانچہ لمبے عرصہ کے اختلاف کے بعد جب میں نے یہ کہا کہ اس سال بی۔ایس۔سی کی کلاسز جاری نہ کی جائیں تو تیسرے دن ہی ممبروں کی چٹھیاں آنی شروع ہو گئیں کہ اسے ضرور جاری کرنا چاہئے۔اس طریق کار کی وجہ سے ہمارا کام کئی مہینے پیچھے جا پڑا لیکن بہر حال جب وہ لوگ بھی اسی رائے کے ہو گئے تو میں نے اپنا پہلا فیصلہ واپس لے لیا کیونکہ میں خود اس بات پر مصر تھا کہ یہ جماعتیں کھولی جائیں۔اس کے لئے اخراجات کا جو اندازہ لگایا گیا ہے وہ دولاکھ پانچ ہز اروپے کا ہے۔میں نے فی الحال دولاکھ روپے کی اپیل جماعت کے سامنے کی ہے۔فی الحال اس لئے کہا ہے کہ ہمارا مقصد یہ نہیں کہ بی۔اے اور بی۔ایس۔سی کلاسز پر اپنا کام ختم کر دیں۔ابھی ہم نے دو کام اور کرنے ہیں۔ایک ایم۔اے اور ایم۔ایس۔سی کلاسز جاری کرنی ہیں اور دوسرے ڈاکٹری کی ایف۔ایس۔سی کی کلاسز جاری کرنی ہیں۔ان تینوں کلاسز کو کھولنے کے لئے غالباً تین چار لاکھ روپے کی اور ضرورت ہو گی اور پانچ سات لاکھ روپے کی ریز رو فنڈ کے طور پر ضرورت ہو گی تاعام اخراجات اس کی آمد سے چل سکیں۔پس میں نے جو فی الحال کہا ہے اس سے کسی کے دل میں یہ شبہ پیدا نہ ہو کہ اس دو لاکھ کی رقم سے تمام کام ہو جائے گا۔یہ دولا کھ اس سال کے لئے چاہئے اگلے سال یا دو سال بعد ایک یا دو قسطوں میں ہی مزید روپیہ کی ضرورت ہو گی۔در حقیقت ایک اچھے کالج کے لئے پچیس لاکھ روپے کی ضرورت ہوتی ہے۔ہم ڈیڑھ لاکھ روپیہ پہلے چندہ سے لے چکے ہیں اور ڈیڑھ لاکھ روپیہ اور بھی اس پر خرچ کیا جا چکا ہے اور دولاکھ کی اب ضرورت ہے۔یہ پانچ لاکھ ہو گیا۔تین لاکھ کی پھر ضرورت ہو گی تو یہ آٹھ لاکھ روپیہ ہو جائے گا۔اس کے بعد ہمیں پندرہ سولہ لاکھ روپے کی ریز رو فنڈ کی ضرورت ہو گی جس سے لاکھ سوالاکھ روپیہ سالانہ آمدنی ہوتی رہے اور کالج مضبوطی کے ساتھ قائم رہ سکے۔ایک وہ زمانہ تھا کہ ہمارے لئے ہائی کلاسز کو جاری کرنا بھی مشکل تھا۔یہاں آریوں کا مڈل سکول ہوا کرتا تھا۔شروع شروع میں اس میں ہمارے لڑکے جانے شروع ہوئے تو آر یہ ماسٹروں نے ان کے سامنے لیکچر دینے شروع کئے کہ تم کو گوشت نہیں کھانا چاہئے، گوشت کھانا ظلم ہے۔وہ اس قسم کے اعتراضات کرتے جو کہ اسلام پر حملہ تھے۔