خطبات محمود (جلد 27)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 151 of 706

خطبات محمود (جلد 27) — Page 151

$1946 151 خطبات محمود لڑکے سکول سے آتے اور یہ اعتراضات بتلاتے۔یہاں ایک پرائمری سکول تھا اس میں بھی اکثر آریہ مدرس آیا کرتے اور یہی باتیں سکھلایا کرتے تھے۔پہلے دن جب میں اس سرکاری پرائمری سکول میں پڑھنے گیا اور دو پہر کو میرا کھانا آیا تو میں سکول سے باہر نکل کر ایک درخت کے نیچے جو پاس ہی تھا کھانا کھانے کے لئے جا بیٹھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس روز کلیجی یکی تھی اور وہی میرے کھانے میں بھجوائی گئی۔اس وقت میاں عمر الدین صاحب مرحوم جو میاں عبد اللہ صاحب حجام کے والد تھے وہ بھی اسی سکول میں پڑھا کرتے تھے لیکن وہ بڑی جماعت میں تھے اور میں پہلی جماعت میں تھا۔میں کھانا کھانے بیٹھا تو وہ بھی آپہنچے اور دیکھ کر کہنے لگے ہیں ماس کھاندے او ماس“ حالانکہ وہ مسلمان تھے۔اس کی یہی وجہ تھی کہ آریہ ماسٹر سکھلاتے تھے کہ گوشت خوری ظلم ہے اور بہت بری چیز ہے۔ماس کا لفظ میں نے پہلی دفعہ ان سے سنا تھا اس لئے میں سمجھ نہ سکا کہ ماس سے مراد گوشت ہے چنانچہ میں نے کہا یہ ماس تو نہیں کلیجی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماس گوشت کو ہی کہتے ہیں۔پس میں نے ماس کا لفظ پہلی دفعہ ان کی زبان سے سنا اور ایسی شکل میں سنا کہ گویا ماس خوری بری ہوتی ہے اور اس سے بچنا چاہئے۔غرض آریہ مدرس اس قسم کے اعتراضات کرتے رہتے اور لڑکے گھروں میں آ آکر بتاتے کہ وہ یہ اعتراض کرتے ہیں۔آخر یہ معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا جس طرح بھی ہو سکے جماعت کو قربانی کر کے ایک پرائمری سکول قائم کر دینا چاہئے۔چنانچہ پرائمری سکول کھل گیا اور یہ سمجھا گیا کہ ہماری جماعت نے انتہائی مقصد حاصل کر لیا ہے۔اس عرصہ میں ہمارے بہنوئی نواب محمد علی خان صاحب مرحوم و ہجرت کر کے قادیان آگئے۔انہیں سکولوں کا بڑا شوق تھا چنانچہ انہوں نے مالیر کوٹلہ میں بھی ایک مڈل سکول قائم کیا ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں اس کو مڈل کر دیا جائے۔میں وہاں سکول کو بند کر دوں گا اور وہ امداد یہاں دے دیا کروں گا۔چنانچہ قادیان میں مڈل سکول ہو گیا۔پھر بعد میں کچھ نواب محمد علی خان صاحب اور کچھ حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے شوق کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ یہاں ہائی سکول کھولا جائے۔چنانچہ پھر یہاں ہائی سکول کھول دیا گیا۔لیکن یہ ہائی سکول پہلے نام کا تھا کیونکہ اکثر پڑھانے والے انٹرنس(Intrance) پاس تھے مغفور