خطبات محمود (جلد 26) — Page 463
$1945 463 خطبات محمود کا مالی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔دوسری غرض یہ ہے کہ جماعت میں صنعت و حرفت اور تجارت کو ترقی دی جائے۔اور صناعوں اور تاجروں میں ایک نظام قائم کر دیا جائے اور ان کی ایک جماعت اور جتھا بن جائے۔اور وہ منظم طور پر دنیا میں ایسے پھیل جائیں جیسے کیکڑے کے پاؤں چاروں طرف پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔اور احمدی تاجروں کو تجارت میں اتنی طاقت حاصل ہو جائے کہ ہر قوم ان سے مل کر تجارت کرنے پر مجبور ہو جائے۔دنیا میں بعض قو میں بعض خاص قسم کی چیزوں کی تجارت کرتی ہیں اور اُن چیزوں پر اُن کا قبضہ ہوتا ہے۔گو عام طور پر وہ دوسری چیزوں کی بھی تجارت کر لیتی ہیں لیکن وہ خاص چیز جس کی وہ تجارت کرتی ہیں اُن کی تجارت کا محور اور ستون ہوتا ہے اور کوئی شخص اُس کی تجارت میں اُن کے مقابل پر آکر جیت نہیں سکتا۔مثلاً بعض قو میں کپڑے کی تجارت کرتی ہیں۔اور بعض چمڑے کی تجارت کرتی ہیں۔لوگ عام طور پر ان کے ساتھ مل کر کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔میرے مد نظر یہ بڑی بڑی دو اغراض تھیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ جماعت کے بعض افراد میں ابھی اس چیز کی اہمیت کا احساس پیدا نہیں ہوا۔میں نے اعلان کیا تھا کہ صناع اور تاجر محکمہ تجارت سے تعلق قائم کریں اور ہر رنگ میں ان سے تعاون کریں۔لیکن میرے اس اعلان کے باوجو د جولوگ تعاون نہیں کرنا چاہتے محکمہ تجارت کو چاہیے کہ ان کی پروا نہ کرے۔ہماری غرض تجارت سے تبلیغ کو پھیلانا ہے۔چاہے تبلیغ احمدیوں کے مال سے ہو یا ہندوؤں اور سکھوں کے مال سے ہو۔یا عیسائیوں کے مال سے ہو۔یعنی ہم کمیشن ایجنسیاں قائم کر رہے ہیں۔خواہ ہمیں کسی احمدی کے مال کی ایجنسی مل جائے یا ہندو یا سکھ یا عیسائی فرم کی ایجنسی مل جائے ہماری پہلی غرض ہر رنگ میں پوری ہو جائے گی۔یعنی ہم اپنی تبلیغ کو دنیا کے ہر حصہ میں پھیلا سکیں گے۔اگر ایک شخص کے پاس سکھ فرم کی ایجنسی ہے اور اسے تبلیغ میں ہر قسم کی آسانی ہے اور وہاں اس کے حالات ایسے ہیں کہ وہ خود بھی تبلیغ کر سکتا ہے دوسروں سے بھی تبلیغ کر سکتا ہے۔اگر کوئی مبلغ اس کے پاس جائے۔وہ اُس کی تقریر کا انتظام کر اسکتا ہے۔اور اس کے رستہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں تو ہماری پہلی اور اصل غرض پوری ہو گئی۔ہمارا اس میں کیا حرج ہے کہ تبلیغ سکھ کے مال سے ہو یا کسی اور قوم کے مال سے