خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 464 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 464

خطبات محمود 464 $1945 پس اگر جماعت کے صناع اور تاجر تعاون نہ کریں تو بھی ہمارا پہلا نقطہ نگاہ پورا ہو جائے گا اور دوسرے نقطہ نگاہ کے لحاظ سے بھی تحریک جدید کو کوئی نقصان نہیں۔اگر ہماری تجارتی سکیم کامیاب ہو جائے اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی نصرت سے تجارت کے کچھ حصہ پر ہم قابض ہو جائیں اور ہماری تجارت ہندوستان اور بیرونی ممالک میں شروع ہو جائے اور فرض کرو کہ ہماری ہزار ایجنسیاں ہندوستان اور بیرونی ممالک میں قائم ہو جائیں تو پھر حسرت انہیں لوگوں کو ہو گی جنہوں نے محکمہ تجارت سے تعاون نہ کیا۔کیونکہ اگر وہ تعاون کرتے تو ان کی چیزیں ہزار جگہ بکنے لگ جاتیں۔پس محکمہ کو کسی طرح بھی نقصان نہیں۔لیکن اگر فرض کیا جائے کہ محکمہ کو اِس کام میں اُس کی نادانی اور ناواقفی کی وجہ سے کامیابی نہ ہو پھر بھی ہمارا فائدہ ہے کہ ایک احمدی تاجر یا صناع کے چار پانچ روپے کے نمونے بچ گئے۔گو عام طور پر کمیشن ایجنسی سے نقصان نہیں ہوا کرتا۔پس اس بات کی پروا نہیں کرنی چاہیے کہ کوئی تعاون کرتا ہے یا نہیں کرتابلکہ بار بار تحریک کرتے رہنا چاہیے۔کیونکہ یہ ایک نیا کام ہے اور ہر نئی چیز سے لوگ گھبراتے ہیں۔اور جب بار بار وہی چیز اُن کے سامنے آتی ہے تو پھر اُس سے مانوس ہو جاتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ محکمے کی ناتجربہ کاری ہے کہ وہ اتنی جلدی گھبر اگئے ہیں۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ایک آواز اٹھائی جائے تو سب لوگ فوڑا اُس کی طرف بھاگ پڑیں۔بلکہ دنیا کا یہ قاعدہ ہے کہ جب ایک کام کے متعلق کہا جائے کہ یہ مفید ہے تو وہ لوگ جو اصل حالات سے واقف نہیں ہوتے وہ اپنے علم اور کہنے والے کے علم کا مقابلہ کرتے ہیں اور چونکہ ہر ایک کا علم الگ الگ ہوتا ہے اس لئے وہ لوگ اس کام کے کرنے میں تاخیر کرتے ہیں۔اور جب ان پر واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کام واقعی مفید ہے تو خود بخود اُس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔صنعت و حرفت کرنا اور چیز ہے اور صنعت و حرفت کو منظم کرنا اور چیز ہے۔تجارت کرنا اور چیز ہے اور تجارت کو منظم طور پر چلانا اور چیز ہے۔یہ ضروری نہیں کہ جو شخص تجارت کی تنظیم کر سکتا ہو وہ تجارت بھی اعلیٰ درجے کی کر سکتا ہو۔یا جو شخص صنعت و حرفت میں کامیاب ہو وہ اُس کی تنظیم میں بھی کامیاب ہو۔یا جو شخص تجارت میں کامیاب ہو وہ اُس کی تنظیم میں بھی کامیاب ہو۔یا جو شخص صنعت و حرفت کی تنظیم میں کامیاب ہو وہ صنعت و حرفت بھی اعلیٰ درجے کی جانتا ہو۔یہ دونوں الگ الگ راستے ہیں۔اس لئے ضروری نہیں کہ تمام صناع یا تاجر