خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 462

+1945 462 خطبات حمود جس جگہ کے حالات کے متعلق نہ ہمیں خبر ہو نہ پتہ اور نہ ہم وہاں کے حالات کا اندازہ لگا سکتے ہوں ایسی جگہ کسی آدمی کو بھیجنا گویا اس کو ایسی مصیبت میں ڈالنا ہے کہ ممکن ہے وہ اس مصیبت کو برداشت نہ کر سکے۔پس ہمیں جب تک ان علاقوں کے حالات کے متعلق پوری واقفیت نہ ہو جائے ہم کیوں کسی کو مصیبت میں ڈالیں۔تجارت کی اس سکیم کے لئے ابتدائی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور یہ تجویز کیا گیا کہ بمبئی میں تحریک جدید کی طرف سے ایک ایجنسی جاری کی جائے اور ہمارے دو تین آدمی کمیشن ایجنسی کا بمبئی میں تجربہ حاصل کریں۔کیونکہ ایسے آدمیوں کا ملنا مشکل ہے جو اس کام کے متعلق پہلے ہی تجربہ رکھتے ہوں۔جب یہ اس کام کو سیکھ لیں گے تو ان کو مدراس، کراچی یا دوسری جگہوں میں پھیلا دیا جائے گا۔اور ان کے ساتھ کچھ اور آدمی لگا دیے جائیں گے جن کو یہ لوگ کام سکھائیں گے۔اس طرح تھوڑے تھوڑے آدمی کام سیکھتے چلے جائیں اور کام پر لگتے چلے جائیں گے۔ابتدا میں ہر علم کو سیکھنا پڑتا ہے کیونکہ بغیر سیکھے کوئی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔اسی طرح تجارت کا علم بھی سیکھنے سے ہی آتا ہے۔بیرونی ممالک میں سے بعض ملکوں میں ہمارے آدمی پہنچ چکے ہیں اور اُن کی طرف سے خط و کتابت جاری ہے۔اور امید ہے کہ جلدی ہی ان بیرونی ممالک اور ہندوستان میں تجارت کا کام شروع کر دیا جائے گا۔مجھے محکمہ تجارت کی طرف سے یہ شکایت پہنچی ہے کہ احمدی صناع اُن کے ساتھ تعاون نہیں کرتے۔اس کے بر عکس غیر احمد ی صناع ان سے ہر قسم کا تعاون کر رہے ہیں۔بعض احمد ی صناعوں سے کہا گیا کہ جو چیزیں وہ تیار کرتے ہیں اُن کا نمونہ دیں لیکن ان میں سے کسی نے بھی نمونہ نہ دیا۔اس کے مقابلہ میں سیالکوٹ کے ایک صناع نے جو غیر احمدی ہے محکمہ تجارت والوں کو لکھا کہ میں اس کے لئے تیار ہوں۔اور جب محکمہ والوں کی طرف سے اُسے جلد جواب نہ پہنچا تو وہ خود قادیان آیا اور کہا کہ میں واپس جاتے ہی اپنے مال کے نمونے بھجوا دوں گا۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے گزشتہ خطبات میں بیان کیا تھا کہ ہماری غرض تجارت کے ذریعہ تبلیغی سنٹر قائم کرنا ہے۔اگر بڑے بڑے شہروں میں ہمارے تجارتی مرکز قائم ہو جائیں تو ان مرکزوں کے ذریعہ تبلیغ بہت آسانی سے وسیع کی جاسکتی ہے اور جماعت پر کسی قسم