خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 377

$1945 377 خطبات حمود بلکہ لکڑی کی سیڑھیاں ہوتی تھیں جنہیں وہ دوسری منزل میں اتر کر ہٹا لیتے تھے۔تاکہ پولیس انہیں استعمال کر کے پکڑ نہ لے اور تعاقب میں دیر لگ جائے۔ان غاروں میں بعض دفعہ ان کو تین تین سال تک چھپنا پڑتا تھا۔اور اگر کبھی پولیس کو اُن کا سراغ مل جاتا اور وہ ان پر قابو پا لیتی تو ان کو قتل کر دیتی تھی۔میں نے بعض کتبوں پر نہایت دردناک عبارتیں لکھی ہوئی دیکھی ہیں کہ یہ میری پیاری بیوی یا میری پیاری بیٹی یا میرے پیارے بیٹے یا میری پیاری بہن کی قبر ہے۔فلاں سن میں ہم عبادت کر رہے تھے کہ پولیس نے آکر ان کو پکڑ لیا اور قتل کر دیا۔ایک گرجے میں سات پادری عبادت کر رہے تھے پولیس آگئی۔اور اُس نے آکر ان کو پکڑ لیا اور ساتوں کے ساتوں قتل کر دیئے گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو سید ولد آدم ہیں اور تمام انبیاء کے سردار ہیں۔آپ کو بھی بنی بنائی جماعت نہیں مل گئی کہ تیرہ سال تک کفارِ مکہ نے آپ کو سخت سے سخت تکلیفیں دیں۔ایسی تکلیفیں کہ ان کا تصور کر کے بھی انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔تیرہ سال کی تکالیف برداشت کرنے کے بعد آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہجرت کی اور مدینہ چلے گئے۔دشمن نے وہاں بھی آپ کا پیچھا نہ چھوڑا اور مدینہ پر چڑھائی کر کے وہاں سے بھی مسلمانوں کو نیست و نابود کرنا چاہا۔اُس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اجازت دی گئی کہ اب ان کا مقابلہ کیا جائے۔اگر مقابلے کی اجازت نہ ہوتی تو مسلمانوں کا زندہ رہنا محال تھا۔مسلمانوں نے کفار کا مقابلہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد ایسے فرشتوں سے کی جن کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَم تَرَوُهَا 4 کہ وہ نظر نہ آتے تھے۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ نے متواتر تیرہ سال تک تکالیف برداشت کیں۔اور تیرہ سال کے بعد اللہ تعالیٰ کی اجازت کے ماتحت کفار کا مقابلہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح دی اور ان کو کفار کی روزانہ تکالیف سے ایک حد تک نجات مل گئی۔اور کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کی وجہ سے ان کو قیصر و کسریٰ کے تختوں کا وارث کر دیا۔لیکن یہ نہیں ہوا کہ صحابہ گھروں میں آرام سے بیٹھ رہے ہوں کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ہم کو ہمارے دشمنوں پر فتح دے گا اس لئے اللہ تعالیٰ کا وعدہ خود بخود پورا ہو جائے گا۔