خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 376

+1945 376 خطبات محمود نیست و نابود کرنے کے درپے ہو جاتی ہے۔آج دنیا ہمیں حکومت کا خوشامدی خیال کرتی ہے لیکن حکومت کے افسر ہمیں باغی قرار دیتے ہیں۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی جماعت کی حکومت مخالفت نہ کرے۔اور یہ ہو نہیں سکتا کہ اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت کو بغیر قربانیوں کے غلبہ حاصل ہو جائے۔مثلاً عیسائیوں کو آج بڑی طاقت حاصل ہے مگر وہ طاقت اور وہ غلبہ جو عیسائیوں کو حاصل ہے بغیر قربانیوں کے حاصل نہیں ہوا۔ایسا نہیں ہوا کہ عیسائی سوئے ہوئے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے لوگوں کی گردنوں میں رسیاں ڈال ڈال کر ان کے پاس لاتے ہوں اور ان کی جماعت میں داخل کرتے ہوں اور اس طرح ان کی جماعت ترقی کر گئی ہو۔بلکہ عیسائیوں نے جانیں دیں اور سینکڑوں سال تک قربانیاں کرتے چلے گئے۔تین سو سال تک عیسائیوں نے ایسی قربانیاں کی ہیں کہ اُن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اٹلی میں میں نے وہ جگہ دیکھی ہے جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کی جماعت کے افراد حکومت کے ظلموں سے بھاگ کر چھپا کرتے تھے۔وہ جگہ زمین سے اتنی فٹ گہری ہے۔اور اتنی سڑاند اور بدبو آتی ہے کہ انسان کے لئے اُس کے اندر داخل ہو نا مشکل ہو جاتا ہے۔اور نمی اور تاریکی اس قدر ہے کہ الامان۔چونکہ قرآن مجید میں ان مقامات کا ذکر ہے اس لحاظ سے میرے لئے بہت اہم تاریخی جگہ تھی اور میں نے اسے دیکھنا ضروری سمجھا۔اس غار کے تین حصے انہوں نے بنائے ہوئے تھے۔پہلا حصہ زمین سے پندرہ یا بیس فٹ نیچے تھا۔جیسے چوہا یا چھچھوندر جگہ کھودتا ہے ایسے ہی انہوں نے زمین کھودی ہوئی تھی اور اس کے اندر کئی راستے بنائے ہوئے تھے۔تا کہ اگر پولیس ان کو پکڑنے کے لئے آبھی جائے تو اُس کو پتہ نہ لگ سکے کہ راستہ کدھر جارہا ہے۔راستے بالکل بھول بھلیاں کی طرح تھے۔ایک اِس طرف جارہا ہے اور دوسرا دوسری طرف۔ایک ہی جگہ سے کئی راستے نکلتے تھے اور آگے جا کر بعض ان میں سے بند ہو جاتے تھے۔اگر پولیس ان کو پکڑنے کے لئے آجاتی تو چونکہ مسیحیوں کو تو رستوں کا علم ہو تا تھا اس لئے وہ بھاگ جاتے تھے۔پھر اس خیال سے کہ کسی وقت پولیس آہی پکڑے انہوں نے اوپر کی منزل کے نیچے ایک دوسری منزل بنائی ہوئی تھی جب اوپر کی منزل میں پناہ نہ مل سکتی تھی تو وہ دوسری منزل میں چلے جاتے تھے۔اس منزل تک جانے کے لئے پکی سیڑھیاں نہ ہوتی تھیں