خطبات محمود (جلد 26) — Page 378
+1945 378 خطبات محمود بلکہ انہوں نے اپنے اعمال سے ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کو پورا کرنے کے لئے انسان کو ہر قسم کی قربانی بے دریغ کرنی چاہیے۔خواہ وہ جانی ہو یا مالی ہو۔پس اللہ تعالیٰ جو وعدہ کرتا ہے بندوں کا فرض ہوتا ہے کہ اس کے پورا کرنے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں۔ہمارے زمانہ میں دہریت کا فتنہ اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی کا سرے سے ہی انکار کر دیا گیا ہے۔دنیا کے نزدیک آج خدا تعالیٰ کسی ہستی کا نام نہیں۔ہمارا اذان میں لا اله الا اللہ کہنا دنیا کے لئے ایک بے معنی چیز ہے۔جب اللہ تعالیٰ کے وجود کا ہی سرے سے انکار پایا جاتا ہے۔تو یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوتا کہ خدا ایک ہے۔یا دو ہیں یا تین ہیں پہلے اللہ تعالیٰ کے وجود کو منوانے کا سوال ہے۔اس کے بعد لا اله الا اللہ کا مقام ہے۔ان تاریکی اور ظلمت کے دنوں میں ہماری جماعت کو سوچنا چاہیے کہ اسے کس قدر قربانیوں کی ضرورت ہے۔اگر ہم میں سے ہر انسان سر سے پیر تک اپنے تمام اعضاء اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے میں نہیں لگا تا، اگر ہم میں سے ہر فرد اپنا دن اور رات خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کے لئے صرف نہیں کرتا تو ہم بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کی طرح ہیں۔جنہوں نے یہ کہا تھا اِذْهَبُ انْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلاَ إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں نے منہ سے یہ کہہ دیا تھا اس لئے ہم ان کو بُرا بھلا کہتے ہیں۔لیکن اگر ہم اپنے اعمال سے یہی ثابت کرنے والے ہوں تو ہم میں اور ان میں کیا فرق ہو سکتا ہے۔آج جس شخص کے دل میں سستی اور غفلت پیدا ہوتی ہے اور قربانی کرنے سے جی چراتا ہے وہ یقیناً حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے ہے گو وہ منہ سے نہ کہے۔پہلی قوموں کے منہ سے جو بُرے الفاظ نکل جاتے ہیں آئندہ قومیں ان لفظوں سے احتراز کرتی ہیں۔لیکن اپنے اعمال کی طرف نہیں دیکھتیں کہ کیا ہم اپنے اعمال سے تو ان ہی الفاظ کو نہیں دہرا رہے۔کہتے ہیں کہ جرمنی کا بادشاہ فریڈرک سخت تند مزاج تھا۔اسے ایک گھوڑا بہت پیارا تھا۔ایک دفعہ وہ گھوڑا بیمار ہو گیا۔بادشاہ نے نوکروں کو حکم دیا کہ اس کا پوری طرح خیال رکھیں۔اور ڈاکٹروں کو حکم دیا کہ پوری توجہ سے اس کا علاج کریں اور ہر دس منٹ کے بعد اسے گھوڑے کی حالت کے متعلق اطلاع ملتی رہے۔اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جس نے گھوڑے