خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 17

$1945 www 17 خطبات محمود ہیں پچیس روپے زیادہ خرچ ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں۔اور اس خواب سے میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ وہاں بھی تبلیغ کا راستہ کھولے گا اور ان علاقوں میں تبلیغ کے لئے فارسی اور پشتو زبانیں جاننے والوں کی ضرورت ہے۔پس صوبہ سرحد کو بھی توجہ کرنی چاہیے اور وہاں سے بھی نوجوان آنے چاہئیں۔اب تک اس صوبہ سے بہت کم آئے ہیں اور جو آئے بھی ہیں وہ تعلیم پانے کے بعد دوسرے کاموں میں لگ گئے ہیں۔سوائے ایک کے کہ وہ مبلغ بنے ہیں۔اور وہ اگر اس صوبہ کی جماعتوں میں تحریک کر کے نوجوانوں کو تعلیم کے لئے یہاں بھجوائیں تو میں سمجھتا ہوں ان کا یہی کام بڑا کام ہو گا۔خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کی تبلیغ کے نئے رستے جلد کھولنے والا ہے اور ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہو گی۔اور اگر آج تیاری شروع کی جائے تو آٹھ سال کے بعد پہلا پھل مل سکے گا اور اُس وقت تک ہم تبلیغ وسیع پیمانے پر نہ کر سکیں گے۔اس لئے میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ گریجوایٹ اور مولوی فاضل نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں تا انہیں جلد سے جلد کام پر لگایا جا سکے۔ایسے نوجوان دو سے چار سال تک کے عرصہ میں کام کے قابل ہو سکیں گے۔اور ان سے وقتی ضرورت کو پورا کیا جا سکے گا۔مگر اصل چیز تو یہ ہے کہ ہر سال مدرسہ احمدیہ میں سو دو سو طالب علم داخل ہوتے رہیں۔اِس کا دوسرا قدم یہ ہو گا کہ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ہم ایسے ہی مدرسے جاری کریں گے۔اور پھر مختلف ملکوں میں عرب، مصر، فلسطین، شام اور دیگر ممالک میں اسی طرز پر اور اسی کورس پر مدر سے جاری کئے جائیں گے۔یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آدمی جائیں گے اور وہاں ایسے مدر سے چلائیں گے۔تا ان ممالک کی تبلیغی اور تعلیمی ضرورت کے لئے آدمی تیار ہو سکیں۔تمام ممالک میں ایسے مدر سے ہمیں جاری کرنے ہوں گے۔حتی کہ یورپ اور امریکہ میں بھی۔پھر ان میں سے چند منتخب طالب علم یہاں آکر رہیں گے اور مکمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں جا کر کام کریں گے۔اور اس طرح مرکز سے گہرا تعلق ان ملکوں کو پیدا ہو تا رہے گا۔مگر ابھی تو ہندوستان میں بھی ہم انتظام نہیں کر سکتے بلکہ پنجاب کے لئے بھی ہمارے پاس سامان نہیں۔پنجاب میں ساٹھ ہزار دیہات ہیں۔اگر اوسطاً ساٹھ دیہات