خطبات محمود (جلد 26) — Page 16
خطبات محمود 16 $1945 پس میں جماعت کے دوستوں کو اس نہایت ہی ضروری امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔تحریک جدید کے پہلے دور میں میں نے اس کی تمہید باندھی تھی۔مگر اب دوسری تحریک کے موقع پر میں مستقل طور پر دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح ہر احمدی اپنے اوپر چندہ دینا لازم کرتا ہے اسی طرح ہر احمدی خاندان اپنے لئے لازم کرے کہ وہ کسی نہ کسی کو دین کے لئے وقف کرے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ سب دوست جلد سے جلد اس بلاوا پر لبیک کہیں گے تا احمدیت کی تبلیغ ہماری زندگیوں میں ہی دور دور تک پہنچ سکے۔اگر ہم نے زیادہ سے زیادہ آدمی دین کے سکھلانے کے لئے جلد از جلد پیدا نہ کر دیئے تو دین کے قیام میں خطرہ پید اہو جائے گا۔ہمیں آدمیوں کا فکر نہیں بلکہ یہ فکر ہے کہ دین اپنی اصل شکل میں دنیا میں قائم ہو جائے۔اس وقت دو قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہے ایک تو دیہاتی مبلغ ان کی تعلیم کم سے کم مڈل تک ہونی چاہیے اور انہیں سال ڈیڑھ سال تک تعلیم دے کر دیہات میں لگا دیا جائے گا۔دوسرے ایسے مڈل پاس طالب علم جو مدرسہ احمدیہ میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کریں۔ابھی داخلہ میں تین ماہ کا عرصہ ہے۔اس لئے ابھی سے اس کے لئے دوست تیاری کریں۔زیادہ نہیں تو فی الحال ہر ضلع سے چار پانچ طالب علم ضرور آنے چاہئیں۔اور بنگال اور بہار وغیرہ صوبوں سے جہاں جماعتیں کم ہیں صوبہ بھر میں سے ہی چار پانچ آنے چاہئیں۔ہم انشاء اللہ جلد تبلیغ کے کام کو وسیع کرنے والے ہیں۔جس کے لئے مبلغ درکار ہیں اور معلم بھی جو نئے آنے والوں کو دین سکھائیں۔کل ہی میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں کابل گیا ہوں جس کے یہی معنی ہو سکتے ہیں کہ وہاں بھی انشاء اللہ احمدیت کی اشاعت کی کوئی صورت پیدا ہو گی۔میں نے دیکھا کہ میں وہاں گیا ہوں اور وہاں بادشاہ، وزراء اور بڑے سرکاری حکام اور بڑے بڑے آدمیوں سے مل چکا ہوں۔مجھے وہاں گئے دو تین روز ہو چکے ہیں اور اب میں واپس آنا چاہتا ہوں۔اور موٹر میں یہ سفر میں نے کیا ہے۔جب میں واپسی کا ارادہ کر رہا ہوں تو کسی نے مجھے کہا کہ یہاں دو طرح سے پٹرول ملتا ہے ایک تو دکانوں میں ملتا ہے اور ایک پٹرول پمپ پر۔پمپ پر زیادہ مل سکتا ہے مگر قیمت زیادہ ادا کرنی پڑتی ہے۔اور میں کہتا ہوں کہ بطور احتیاط پٹرول زیادہ ہی ہونا چاہیے