خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 141 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 141

$1945 141 خطبات محمود کسی وقت خالی نہیں بیٹھے گا۔وہ شخص جو نچلا ہو کر بیٹھ رہتا ہے۔اس کی حالت اسی طرح ہے جس طرح کچی سڑکوں پر چلنے والا چھکڑا ہوتا ہے۔بعض دفعہ چھکڑے پر بیٹھا ہوا مالک سو جاتا ہے اور چھکڑ چلتا جاتا ہے۔اور بعض دفعہ بیل بھی سو جاتے ہیں اور چھکڑا کھڑا ہو جاتا ہے۔جن افراد کی حالت اس قسم کی ہو وہ کبھی کسی بڑے مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔پس لاہور کی جماعت کو احمدیت کے لحاظ سے بہت زیادہ ترقی کی ضرورت ہے اور بہت زیادہ حرکت کی ضرورت ہے۔ایسی حرکت جو اس کے گرد و پیش والوں کو بھی ہلا دے۔جس شخص کے اندر حرکت پائی جائے اُس کے اگر دو پیش کی چیزیں بھی ضرور ملتی رہتی ہیں اور ہل کر بیداری اور جوش پیدا کر دیتی ہیں۔پس اپنے اندر ایسی زندگی اور ایسی بیداری پیدا کرو کہ لاہور کے جس گوچے اور جس محلہ میں سے تم گزرو لوگ یہ محسوس کریں کہ یہ زندہ انسان ہے جو دوسروں کو ہلا دے گا اور سوتوں کو جگادے گا۔پس میں اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر بیداری پیدا کریں۔وہ بیداری جو قرآن مجید تمہارے اند ر پیدا کرنا چاہتا ہے۔وہ بیداری جو کبھی ایک جگہ نہیں رہنے دیتی بلکہ اٹھائے اٹھائے آسمان پر لے جاتی ہے۔اس سے بھی آگے جہاں جیالوجی (Geology) اور طبقات الارض والوں کی تھیوریاں ختم ہو جاتی ہیں جو فلسفی کی طرح ذروں پر تسلی نہیں پاتی۔بلکہ کہتی ہے إِلى رَبِّكَ مُنْتَههَا) اور آگے چل۔ان ذروں سے آگے اور غیر محدود ہستی ہے۔میرے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا۔کہنے لگا میں پیر ہوں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا فرمائیے۔کہنے لگا اگر کوئی شخص اپنے دوست سے ملنے کے لئے جائے اور ا۔دوست کے دروازے پر پہنچ کر بھی سواری پر ہی بیٹھا ر ہے تو آپ کا کیا خیال ہے کہ اُس کو سواری پر بیٹھا رہنا چاہیے یا نیچے اتر آنا چاہیے؟ یا ایک شخص کشتی میں بیٹھ کر دریا پار کر رہا ہو تو کیا کنارے پر پہنچ کر اس کو کشتی میں بیٹھا رہنا چاہیے پانچے اتر آئے؟ اللہ تعالیٰ کی میرے ساتھ یہ سنت ہے کہ وہ مجھے سوال کرنے والے کا مطلب سمجھا دیا کرتا ہے کہ اس سوال کی تہہ میں اصل غرض کیا ہے میں اُس کے سوال کا مطلب سمجھ گیا کہ وہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ عبادت تو ایک قسم کی سواری ہے جو شخص خدا تک پہنچ جائے اُس کو عبادت کی ضرورت نہیں۔میں نے اس کو