خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 142

$1945 142 خطبات محمود جواب دیا کہ اگر اُس دریا کا کوئی کنارہ ہے اور کنارہ پر پہنچ کر بھی یہ شخص کشتی میں بیٹھا ر ہے گا تو اُ بے وقوف ہو گا لیکن اگر یہ ایسے دریا میں سفر کر رہا ہے جس کا کوئی کنارہ ہی نہیں تو جہاں اترا وہیں ڈوبا۔وہ شر مندہ سا ہو کر کہنے لگا اچھا! یہ بات ہے۔جھوٹے صوفیا کا یہ خیال ہے کہ نماز ایک سواری ہے جب تک خدا نہ ملے اُس وقت تک نماز پڑھنے کی ضرورت ہے اور جب خدامل گیا پھر نماز کی کوئی ضرورت نہیں۔ان کے نزدیک بزرگی کی یہ علامت ہے کہ فلاں بزرگ نے نماز چھوڑ دی مگر ہمارے نزدیک وہ کافر ہو گیا اور ان کے نزدیک نماز چھوڑ دینے سے وہ بزرگ ہو گیا۔پس مومن کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی ایک مقام پر کھڑا ہو جائے۔وہ دائیں بھی دیکھتا ہے اور بائیں بھی دیکھتا ہے، آگے بھی دیکھتا ہے اور پیچھے بھی دیکھتا ہے مگر آخری نقطہ اپنے رب کو سمجھتا ہے۔وہ کسی ذرے پر کھڑا نہیں ہو تا بلکہ ان کے پیچھے ایک غیر محدود ہستی کو دیکھتا ہے۔پس انسان کے لئے خدا تعالیٰ نے کوئی ایسا مقام تجویز نہیں کیا جہاں وہ ٹھہر جائے۔مومن وہی ہے جس میں دائی حرکت پائی جائے۔جس میں دائمی حرکت نہ پائی جائے وہ مسلمان نہیں۔اور جو مسلمان نہیں وہ خدا کو بھی پسند نہیں۔“ ( الفضل 12 مارچ 1945ء) 1: انگشتانہ : اس آلہ کو کہتے ہیں جسے کپڑ اسینے کے وقت درزی اپنی انگلی میں پہن لیتے ہیں۔2: المومنون :4 :3 مقیش سونے چاندی کے تاروں کا بنا ہوا کپڑا جیسے زری۔:4 پکھدڑ چھوٹی سی مچھلی کو پنجابی میں پھو ڑ کہتے ہیں۔5: بیا: چڑیا کی طرح کا ایک پرندہ جس کا گھر بنانا بڑا مشہور ہے۔6: عبس: 45