خطبات محمود (جلد 26)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 516

خطبات محمود (جلد 26) — Page 113

خطبات محمود اور ہر 113 $1945 اور جس کا اثر ساری قوم پر پڑتا ہے۔ہر شخص جو اس کا ارتکاب کرتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے ہر شخص جو اُس پر پردہ ڈالتا ہے وہ بھی قوم کا دشمن ہے اور ہر وہ شخص جس کے دل میں اس جرم کو دور کرنے کی خواہش نہیں وہ بھی قوم کا دشمن ہے۔پس آج سے تم یہ فیصلہ کر لو کہ جھوٹ اور بد دیانتی کو مٹانا ہے۔تم یہ کر کے دیکھ لو۔اگر یہ دونوں چیزیں تم اپنے اندر پیدا کر لو گے تو تم دیکھو گے کہ شدید سے شدید دشمن بھی تمہاری تعریف کرنے پر مجبور ہو گا اور اپنی ضرورتوں کے موقع پر وہ تم پر اعتبار اور اعتماد کرے گا۔پس میں جماعت کو آنے والے خطرہ سے جس کی الوصیت میں خبر دی گئی تھی آگاہ کرتاہوں اور یہ نہیں کہ آگاہ کر دینے سے میں اپنے آپ کو اپنی ذمہ داری سے آزاد سمجھتا ہوں بلکہ جب تک مجھے خدا تعالیٰ توفیق دے میں اپنی اس ذمہ داری کو پورے طور پر ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اور میرا ہی نہیں بلکہ تم میں سے ہر شخص کا فرض ہو گا کہ اس خطرہ سے آگاہ رہے جس کے متعلق آج سے سینتیس سال قبل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خبر دار کیا تھا۔اگر پھر بھی وہ چور تمہارے گھر میں گھس آئے تو تم سے زیادہ آبلہ 10 کون ہو گا کہ خدا کے مامور نے سینتیس سال پہلے بتا دیا تھا کہ شیطان فلاں طرف سے آئے گا مگر پھر بھی تم نے احتیاط نہ کی اور اسے گھر میں گھنے دیا۔پس اب بھی تمہارا فرض ہے کہ ہوشیار ہو جاؤ اور کمریں کس لو اور قومی عزت کو بچانے اور قومی ناک کو بچانے کے لئے مجرموں اور غداروں کو نکال باہر کرو۔خواہ وہ تمہارا باپ ہو، خواہ وہ تمہارا بھائی ہو، خواہ وہ تمہاری ماں ہو ، خواہ وہ تمہاری بیوی ہو اور خواہ وہ تمہارا دوست ہو۔اور کوشش کرو کہ اللہ تعالیٰ کا سلسلہ نیک نامی اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ ترقی کرے۔یاد رکھو قومی اخلاق اُسی وقت غالب ہو سکتے ہیں جب قوم غالب ہو۔اور جب احمدیت غالب آئے گی تو اُس وقت ہمارے یہ اخلاق کام نہیں آئیں گے جو آج میرے اندریا تمہارے اندر پائے جاتے ہیں بلکہ وہ اخلاق کام آئیں گے اور اُن سے دنیا کی اصلاح ہو گی جو اُس وقت جماعت کے اندر پائے جاتے ہوں گے۔میرے اندر جو اخلاق پائے جاتے ہیں اُس وقت یہ کام نہیں آئیں گے بلکہ اُس شخص کے اخلاق کام آئیں گے جو اُس وقت جماعت کے سر پر ہو گا۔جب جماعت میں حکومت آئے گی کیونکہ یہ کام اُس نے کرنا ہے کہ ان اخلاق کو تمام دنیا پر