خطبات محمود (جلد 26) — Page 114
$1945 114 خطبات محمود غالب کرے۔میں تو واعظ ہوں سیاست میرے پاس نہیں، غلبہ مجھے حاصل نہیں، میرے پاس تو اتنی بھی طاقت نہیں جتنی کم سے کم اقلیت کو حاصل ہے۔ہندوستان میں سب سے چھوٹی مینارٹی (Minority) سکھوں کی ہے مجھے تو اتنی بھی طاقت حاصل نہیں جتنی کہ سکھوں کو حاصل ہے۔تو میرے اندر کتنے ہی بلند اخلاق ہوں وہ دنیا کی اصلاح میں کام نہیں آسکتے۔ہاں اس شخص کے اخلاق کام آئیں گے جو اُس وقت جماعت کے سر پر ہو گا جب جماعت کو غلبہ حاصل ہو گا۔میں تو وعظ کرتا ہوں لیکن وعظ کیا قرآن مجید میں کم ہے ؟ اچھے سے اچھا وعظ قرآن مجید میں موجود ہے، اچھے سے اچھا وعظ حدیث میں موجود ہے۔اگر قرآن مجید اور حدیث کے وعظ نے کام نہ دیا تو میر ا وعظ کیا کام دے گا۔پس وہی اخلاق کام دیں گے جو اُس وقت جماعت میں ہوں گے جب جماعت کو غلبہ حاصل ہو گا اور جو اُس شخص میں پائے جائیں گے جو جماعت کے سر پر ہو گا۔اس لئے اُس وقت تک اخلاق کی درستی کا کام کرتے جاؤ جب تک کہ جماعت کو غلبہ حاصل ہو۔اگر اُس وقت تک تم بر ابر اخلاق کو درست رکھتے گئے تو جب غلبہ ملے گا وہ غلبہ نیکی کا ہو گا۔پس جماعت کی حالت کم از کم اس وقت تک نیک ہونی چاہیے۔جب تک یہ حالت قائم رہے گی اُس وقت تک جماعت بڑھتی جائے گی۔اور جب یہ حالت نہ رہے اور خرابی پھیل جائے تو پھر ترقی رُک جاتی ہے۔پھر کسی مامور کے ذریعہ سے ترقی حاصل ہو تو ہو اس جماعت کے اخلاق سے نہیں ہو سکتی۔پس ہمارا فرض ہے کہ ان اخلاق کو کم از کم اُس دن تک جاری رکھیں جس دن کہ احمدیت کو غلبہ حاصل ہو، تاکہ یہ اخلاق ساری دنیا میں جاری ہو جائیں اور دنیا تسلیم کرلے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر ان اخلاق کو جاری کیا۔اگر آج ہم نے ان اخلاق کو مار دیا تو کل کو خراب اخلاق دنیا میں جاری ہوں گے اور جب جماعت میں حکومت آئے گی تو وہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی حکومت نہیں ہو گی وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت نہیں ہو گی بلکہ وہ شیطان کی حکومت ہو گی۔اور اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ السلام اور ان کی جماعت کو اس لئے تو پیدا نہیں کیا کہ ان کے ذریعہ انسانوں کی گردنیں شیطان کے قبضہ میں چلی جائیں۔پس ہمارا فرض ہے کہ اپنی قوم کے اخلاق کو درست رکھیں، اپنی اولادوں کے اخلاق