خطبات محمود (جلد 26) — Page 112
$1945 112 خطبات محمود گا بیٹا پچھلا جانے دو آئندہ میں کبھی بد دیانتی نہیں کروں گا۔بھائی کہے گا پچھلا معاف کر دو آج سے میں باز آیا۔بیوی کہے گی یہ قصور معاف کر دو آئندہ یہ حرکت نہیں کروں گی۔پس جب تم یہ تنبیہ کر دو گے اور ایسے موقع پر ان کی محبت کو قربان کر دو گے تو تم دیکھو گے کہ ایک گھنٹہ کے اندر اندر بد دیانتی مٹ جائے گی۔پس قوم کی اصلاح تمہارے ہاتھوں میں ہے۔بیٹے کی اصلاح باپ کے ہاتھ میں ہے۔باپ کی اصلاح بیٹے کے ہاتھ میں ہے۔بھائی کی اصلاح بھائی کے ہاتھ میں ہے۔بیوی کی اصلاح خاوند کے ہاتھ میں ہے اور ماں کی اصلاح بیٹوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر تم اس طریق کو استعمال کرو تو چند دن نہیں بلکہ ایک گھنٹہ کے اندر ساری قوم کی اصلاح ہو سکتی ہے۔لیکن اگر تمہارا دوست دیکھتا ہے کہ وہ بد دیانتی کرے گا تو تم اس پر پردہ ڈالو گے اور جھوٹ بولو گے تو تم اُس کو بھی غرق کرتے ہو اور آپ بھی غرق ہوتے ہو۔کیا تم اس کو پسند کرتے ہو کہ اس کی بد دیانتی پکڑی جائے اور اس کی سزا میں اسے پانچ دس گالیاں یا دو چار تھپڑ پڑیں؟ یا تم اس کو پسند کرتے ہو کہ اس کو لاکھ سال تک جلتی ہوئی جہنم میں ڈال دیا جائے؟ اگر تم پسند نہیں کرتے کہ اس کو جہنم میں ڈالا جائے تو تمہارا دوست ان پانچ دس گالیوں یا دو چار تھپڑوں سے اگر بچنا بھی چاہتا ہو تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس کو گھسیٹ کر لاؤ اور اسے تھپڑ اور گالیاں دلاؤ تا کہ اس کی سزا اسی دنیا میں ختم ہو جائے اور وہ خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جائے۔ہاں اگر تمہیں خدا پر ایمان نہیں، اگر تمہیں جزا سزا اور دوزخ پر اعتبار نہیں تو پھر بے شک تم اس شخص کو انسانوں کی سزا سے بچاؤ۔کیونکہ تم سمجھتے ہو کہ خدا کی کوئی سزا نہیں۔اس سے بچنے کی کوئی ضرورت نہیں۔انسان کی سزا ہے اس سے میں بچاتا ہوں۔پس ایسی بے ایمانی کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے کہ تم اس کو سزا سے بچانے کی کوشش کرو۔ورنہ قومی جرائم میں کسی کی رعایت کرنا خطر ناک چیز ہے۔ہاں فردی خرابی میں پردہ پوشی کرنا بے شک اعلیٰ صفت ہے۔ایک ایسا جرم ہے جس کا زید یا بکر سے تعلق ہے مثلاً زید سے کوئی غلطی ہوئی یا بکر سے کوئی غلطی ہوئی جس کا صرف ان کے ساتھ ہی تعلق ہے تو ہمارا فرض ہے کہ پردہ پوشی سے کام لیں۔خدا تعالیٰ ان کے گناہ بھی معاف کرے اور ہمارے گناہ بھی معاف کرے۔مگر ایسا جرم جو قوم کے اخلاق بگاڑنے والا ہے