خطبات محمود (جلد 25) — Page 772
$1944 772 خطبات محمود میں گرتا ہے اور پھر اُس سے بھی نچلے درجہ میں چلا جاتا ہے۔یہی حال قوموں کا ہوتا ہے۔بسا اوقات کوئی قوم غفلت اور قبض کے زمانہ میں اپنا توازن کھو بیٹھتی ہے اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ قبض کی حالت سے سقوط کی حالت میں آجاتی ہے۔اور بجائے اس کے کہ اپنے مقام کی بلندی اور پستی کے درمیان قبض اور بسط کی حالت میں چکر کھائے وہ اپنے مقام سے نچلے مقام میں گر جاتی ہے اور یہی چیز ہے جس کا نام قومی منزل ہے۔جب تک تو کوئی قوم اپنے مقام کی بلندی اور ہے پستی کے درمیان چکر کھاتی رہتی ہے وہ گر نہیں سکتی۔کیونکہ یہ قبض اور بسط کی حالت ہر انسان اور ہر قوم کے لیے مقدر ہے اور کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔مگر جب کوئی قوم یا انسان اپنے ہی مقام سے گر کر نچلے درجہ میں چلا جائے تو پھر حالت خراب ہو جاتی ہے۔یہی وہ چیز ہے جس کے لیے قوموں میں بیداری پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کے لیے بہت دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ روحانی مقامات ایسے ہیں کہ بعض دفعہ پتہ بھی نہیں لگتا اور قوم اپنے درجہ سے گر جاتی ہے۔اس سے بچنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ مومن دعاؤں میں لگے رہیں۔خصوصاً جب اجتماعی حالت ہو تو دعاؤں پر خاص طور پر زور دینا ضروری ہوتا ہے۔بعض نقائص انفرادی ہوتے ہیں اور انفرادی حالت سے پیدا ہوتے ہیں قومی نقائص اجتماعات کی حالت میں پیدا ہوتے ہیں۔قوم کبھی خلوت میں تباہ نہیں ہوتی ہمیشہ جلوت میں تباہ ہوتی ہے۔اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی جلسہ یا مجلس میں تشریف فرما ہوتے تو کم سے کم ستر بار استغفار پڑھتے۔3 اب ہمارا جلسہ سالانہ آنے والا ہے جس میں شامل ہونے کے لیے لوگ جمع ہوں گے۔اِن آنے والوں میں کمزور بھی ہوں گے اور مخلص و جوشیلے بھی، سموئی ہوئی طبیعت کے لوگ بھی ہوں گے اور ڈھیلی طبیعت کے بھی، نچست اور ہوشیار بھی ہوں گے اور شست اور غافل بھی، متقی اور تقوی کی راہ پر چلنے والے بھی ہوں گے اور اِس راہ سے دُور رہنے والے بھی۔اور وہ ایک دوسرے کو اپنی باتیں سنائیں گے۔ا کئی بسط کی حالت میں ہوں گے اور کمزوروں کو اپنی باتیں سنا کر چست اور ہوشیار بنادیں گے اور کئی اپنی قبض کی حالت میں ہوں گے وہ کمزوروں کو ملیں گے اور جس طرح گنڈی مچھلی کو اپنی طرف کھینچ لیتی ہے ان کو اپنی طرف کھینچ لیں گے۔پس یہ موقع بہت دعاؤں کا اور بہت ہے