خطبات محمود (جلد 25) — Page 771
خطبات محمود 771 $1944 انسان پر غفلت طاری ہو جائے اور کمزوری پیدا ہو جائے۔یہ مختلف حالتیں اس لیے رکھی ہیں کہ انسان پر غفلت طاری نہ ہونے پائے اور قیام میں ہی رہنے کی وجہ سے عادت کے طور پر وہ ہے الفاظ کو ادانہ کرتا رہے۔یار کوع میں اگر ہو تو عادت کے طور پر ہی وہ نماز کے الفاظ کو نہ ادا کرتا جائے۔یا سجدہ کی عادت کے ماتحت وہ غافل ہو کر الفاظ منہ سے نہ نکالتا ر ہے۔اور ایک حالت سے دوسری بدلنے کی وجہ سے اُس کی غفلت دور ہو جائے اور وہ سوچ سمجھ کر نماز کو ادا کرے۔اسی طرح انسان کی روحانیت میں بھی قبض اور بسط کی حالت ہوتی ہے تا وہ کسی حالت کا عادی ہو کر ترقی سے محروم نہ ہو جائے۔اگر یہ حالتیں بدلتی نہ رہیں اور انسان پر ایک ہی حالت رہے تو یہ اگر یہ حالت قبض کی ہے اور یہی حالت ہمیشہ رہے تو اُس کا دل مر جائے گا۔اور اگر بسط کی حالت ہی رہے تو وہ عادتاً عبادت کرنے لگ جائے گا اور اُس کو نیکیوں میں عزم و ارادہ اور خواہش باقی نہ رہے گی۔کبھی پس انسانی مقام کو قائم رکھنے کے لیے اور اس لیے کہ نیکی کرتے ہوئے اُس کا ارادہ اور عزم بھی قائم رہے اور اُس کی توجہ بھی قائم رہے ہر مومن پر خواہ اُس کا مقام بڑا ہو یا چھوٹا لہروں کا زمانہ آتا رہتا ہے۔اور ہر مومن اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے بھی اونچا اٹھتا ہے اور کبھی نیچے گرتا ہے اور کبھی درمیانی حالت میں ہوتا ہے۔اور ہر مومن اپنے اپنے مقام کے لحاظ سے لہروں کے نیچے چلتا ہے۔اور یہ لہروں کا سلسلہ تمام قانونِ قدرت میں چلتا ہے۔یہ سلسلہ انفرادی حالات میں بھی ہوتا ہے اور قومی حالات میں بھی ہوتا ہے۔قوموں پر بھی کی حالت آتی ہے اور بھی بسط کی، بھی قوم پر ابتلاؤں کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہوتی ہیں اور بھی ہیں اُس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی بارش ہو رہی ہوتی ہے، کبھی اُس پر کامیابی کا سورج طلوع ہوتا ہے کبھی رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہوتی ہے، کبھی قوم کے اندر نشو و نما اور نمو کا جوش ہوتا ہے اور کبھی غفلت طاری ہو جاتی اور اُس کے اندر آرام کرنے کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔اور ان دونوں حالتوں میں جو قوم یا جو انسان زنجیر کو نہیں چھوڑتا اور تسلسل کو قائم رکھتا ہے وہ ترقی کہ جاتا ہے۔اور جو اس تسلسل کو قائم نہیں رکھ سکتا وہ گر جاتا ہے۔جو اپنی زنجیر کو چھوڑ دیتا ہے وہ توازن کھو دیتا ہے اور پھر اپنے درجہ سے نچلے درجہ میں گر جاتا ہے۔پھر وہاں سے اور نچلے درجہ ہے