خطبات محمود (جلد 25) — Page 731
$1944 731 خطبات محمود اڑھائی ہزار روپیہ کے وعدے بھجوائے ہیں۔پس وقتوں کے متعلق بھی میں نے تشریح کر دی ہے اور وعدوں کے متعلق بھی میں نے تشریح کر دی ہے۔اس کے بعد میں جماعت کے اُس طبقہ کو توجہ دلاتا ہوں جنہوں نے پہلے دس سالوں میں حصہ نہیں لیا۔کئی ایسے لوگ ہیں جن کو اس وقت مالی کشائش حاصل نہیں تھی جب ہے تحریک جدید شروع کی گئی اور اب حاصل ہے۔کئی ایسے ہیں جو اُس وقت نابالغ تھے اور اب بالغ ہو چکے ہیں۔دس سال کی بات ہے جب میں نے یہ تحریک شروع کی تھی۔کئی لڑکے ایسے تھے جن کی عمر اس وقت نو یا دس سال کی تھی اور اب اُن کی عمر انیس یا ہمیں سال کی ہو چکی ہے۔کئی من ایسے تھے جن کی عمر اس وقت بارہ یا تیرہ سال کی تھی اور اب ان کی عمر بائیس یا تیئیس سال کی تم ہو چکی ہے اور اب اُن کو ملازمتیں یا کام مل گئے ہیں اور وہ برسر روزگار ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ بھی اس تحریک میں حصہ لیں۔ایسے لوگوں کے لیے میں نے اجازت دی ہے کہ ایک نیا رجسٹر کھولا جائے جس میں ایسے نئے شامل ہونے والوں کے نام درج کیے جائیں۔مگر جہاں گزشتہ سالوں میں حصہ لینے والوں کے لیے یہ شرط تھی کہ پہلے سال پانچ یا دس یا پند رو یا این پانچ کے وعدہ کے لحاظ سے بڑھا کر کوئی رقم دیں وہاں اب نئے شامل ہونے والوں کے لیے یہ تی شرط ہوگی کہ پہلے سال کے لیے کم از کم اپنی ایک ماہ کی آمد کے برابر چندہ دیں اور پھر ہر سال اُس پر کچھ نہ کچھ اضافہ کرتے چلے جائیں۔ایسے کچھ لوگوں کی طرف سے درخواستیں آنا شروع ہو ہے گئی ہیں۔ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ جس طرح پہلے دس سالوں میں پانچ ہزار آدمیوں نے اِس تحریک میں حصہ لیا ہے اس طرح نئے شامل ہونے والے بھی پانچ ہزار آدمی ہونے چاہئیں جو اس تحریک میں حصہ لینے کے لیے آگے بڑھیں تاکہ اس تحریک کے ذریعہ سے اسلام کی تبلیغ اور تائید کے لیے مضبوط ریز رو فنڈ قائم ہو۔چونکہ دورِ ثانی کا لفظ جو آجکل استعمال کیا جا رہا ہے یہ مشتبہ ہے یعنی یہ شبہ پڑتا ہے کہ اُن کا بھی دور ثانی ہے جو دس سالوں کے بعد حصہ لے رہے ہیں۔اس لیے میرے نزدیک تحریک جدید کا دوسراحصہ یعنی جس میں نئے حصہ لینے والے شامل ہوں اس کے لیے الگ رجسٹر کھولا جائے جس کا نام دفتر ثانی رکھ دیا جائے۔پہلے دس سالوں سے جو لوگ حصہ لیتے چلے آرہے ہیں اُن کے نام جس رجسٹر میں درج ہوں اُس کا نام دفتر اول رکھ