خطبات محمود (جلد 25) — Page 730
خطبات محج محمود 730 $1944 سوائے کسی ایسی صورت کے کہ وعدہ کرنے والے کی معذوری روزِ روشن کی طرح واضح ہو۔اسی طرح جن علاقوں میں اردو نہیں سمجھی جاتی مثلاً بنگال ہے یا مدراس کا علاقہ ہے وہاں اردو بہت کم سمجھی جاتی ہے اور اُن تک بات کا جلدی پہنچنا مشکل ہوتا ہے ایسے علاقوں کے لیے پہلے ہم بھی 30 اپریل تک کی میعاد مقرر ہوتی ہے اب بھی اُن کے لیے آخری میعاد 130 اپریل 1945ء ہو گی۔وہ اپنے گیارھویں سال کے وعدے اِس میعاد کے اندر اندر بھجوا دیں۔اور چونکہ جنگ کی وجہ سے ہندوستان سے باہر کی جماعتوں تک آواز پہنچنے میں دو تین ماہ کی دیر ہو جاتی ہے اور پھر دو تین ماہ تیاری پر لگ جاتے ہیں۔کیونکہ بعض علاقے ایسے ہیں کہ سارے علاقہ میں بات کا جلدی پہنچنا مشکل ہوتا ہے جیسے یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ ہے ، وہ ملک ہمارے ہندوستان سے چار گنا ہے اور صرف ایک مبلغ وہاں کام کرتا ہے جو ہر ایک جماعت تک جلدی نہیں پہنچ سکتا اور اُن جماعتوں تک بات پہنچنے میں دیر لگ جاتی ہے اس لیے ان باتوں کی وجہ سے اور ان مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے لیے ہمیشہ جون کی آخری تاریخ وعدہ کی آخری میعاد مقرر ہوتی ہے۔چنانچہ اب بھی میں جون کی آخری تاریخ ہندوستان سے باہر کی جماعتوں کے وعدوں کی آخری میعاد مقرر کرتا ہوں۔یونائیٹڈ سٹیٹس امریکہ کی جماعتوں کے دسویں سال کے تحریک جدید کے وعدے جون کے چلے ہوئے اب نومبر کے شروع میں آکر ہمیں ملے ہیں۔اسی طرح اب تو جاوا اور سماٹر اجاپان کے قبضہ میں ہیں اور ہمارے ساتھ ان کے تعلقات قائم نہیں۔جب تعلقات قائم تھے اُس وقت سماٹرا اور جاوا کے وعدے بھی جلدی نہیں پہنچ سکتے تھے۔خدا تعالیٰ کا ہم پر یہ فضل اور احسان ہے کہ ہندوستان میں کوئی اسلامی جماعت ایسی نہیں بلکہ کوئی غیر اسلامی مذہبی جماعت بھی ایسی نہیں جس کو خدا تعالیٰ نے ان اقوام سے مدد دلائی ہو جو اس وقت اسلام کے مد مقابل ہیں۔بلکہ میں کہتا ہوں سارے ایشیا بلکہ سارے مشرق میں کوئی ایسی مذہبی جماعت نہیں جس کے مذہبی چندوں کی تحریک میں مغربی لوگوں نے حصہ لیا ہو۔صرف ہماری جماعت کو استثنائی حیثیت حاصل ہے کہ ہمارے مذہبی چندوں کی تحریک میں ہر سال انگلستان کے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں اور امریکہ کے لوگ بھی حصہ لیتے ہیں۔چنانچہ اس سال بھی امریکہ کی جماعت نے