خطبات محمود (جلد 25) — Page 729
خطبات محمود 729 $1944 پہلے دس سالوں میں حصہ لے چکے ہیں اور آئندہ اپنا حصہ جاری رکھنا چاہتے ہیں اُن کو چاہیے کہ 31 دسمبر تک انفرادی طور پر یا جماعتی رنگ میں اپنے وعدے تحریک جدید میں بھجوا دیں۔لیکن چونکہ جلسہ سالانہ پر آنے کی وجہ سے بعض جماعتوں کے وعدوں کی فہرستیں جلدی مکمل ہے نہیں ہو سکتیں اور بعض علاقے ذرا دور کے بھی ہیں اس لیے اجازت ہوگی کہ سات فروری 1945ء تک جو وعدے قادیان پہنچ جائیں گے یا اس تاریخ تک اپنے شہر سے روانہ ہو جائیں یہ گے اُن کو رجسٹر میں درج کر لیا جائے گا۔گو بہتر یہی ہو گا کہ 31 دسمبر تک وعدے آجائیں۔لیکن ہندوستان کے وہ علاقے جہاں اردو سمجھی جاتی ہے ان علاقوں کی جماعتوں یا افراد کو سات فروری تک وعدے بھیجوانے کی مہلت ہو گی۔سات فروری آخری میعاد ہے۔اس کے بعد کوئی ہے وعدہ ہندوستان کی اُن جماعتوں کی طرف سے جہاں اردو کبھی جاتی ہے قبول نہیں کیا جائے گا۔ان ہر سال یہ اعلان کیا جاتا ہے اور ہر سال ہی میں نے یہ دیکھا ہے کہ سات فروری کے بعد بعض درخواستیں آجاتی ہیں کہ ہم میعاد کے اندر وعدہ بھجوانے سے رہ گئے تھے ہمیں بھی شامل کر لیا جائے اور ہر سال ہی سوائے کسی استثنائی صورت کے ہمیں ایسے وعدوں کو رڈ کرنا پڑتا ہے۔کیونکہ جہاں چندہ لینے سے ہماری یہ غرض ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں دوست اپنے اموال خرچ کریں اور اس سے اسلام کی تائید ہو وہاں ساتھ ہی ساتھ ہماری یہ بھی خواہش ہے کہ جماعت کو تربیت کی صحیح لائن پر لایا جائے۔اور جماعت کے اندر یہ احساس پیدا کیا جائے کہ جب کوئی ہے وقت مقرر کیا جائے تو اُس وقت کے اندر اندر وہ اپنی قربانی پیش کرے۔پس اگر وقت کے بعد آنے والے وعدوں کو ہم رڈ کر دیتے ہیں تو وعدہ کرنے والوں کو جو دکھ اس سے پہنچتا ہے اُس کی ذمہ داری ہم پر نہیں بلکہ اُن پر ہے۔اگر وقت کے بعد آنے والے وعدوں کو ہم بلا وجہ قبول کر لیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ ہم اور لوگوں کو بھی نشستی کی تحریک کرتے ہیں۔پس میں اس امر کی وضاحت کیے دیتا ہوں کہ بہتر تو یہی ہے کہ 31 دسمبر تک تحریک جدید کے گیارھویں سال کے وعدے مرکز میں پہنچ جائیں۔لیکن اگر کوئی روک پیدا ہو جائے تو سات فروری 1945ء تک وعدے بھجوانے کی اجازت ہے۔اور جیسا کہ گزشتہ سالوں میں بھی ہوا کرتا تھا سات فروری آخری میعاد ہے۔اس کے بعد آنے والے وعدے قبول نہیں کیے جائیں گے