خطبات محمود (جلد 25) — Page 701
خطبات محمود 701 $1944 اور افریقہ کے بعض ساحلوں پر بھی اسی تحریک کے ماتحت مبلغ گئے اور ان مبلغین کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور سلسلہ سے لاکھوں لوگ روشناس ہوئے اور دنیا کے دور دراز کناروں تک اس تحریک کے ماتحت احمدیت کا نام اور اس کی شہرت پہنچی۔تحریک کے شروع میں جو مبلغ لیے گئے وہ ہنگامی طور پر لیے گئے تھے اُن کی تبلیغی تعلیم پوری نہ تھی۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ اور ان مبلغین میں سے بعض اس وقت لا پتہ ہیں۔مثلاً مولوی محمد الدین صاحب یہاں سے افریقہ بھیجے گئے تھے۔راستہ میں وہ جہاز جس میں وہ سفر کر رہے تھے غرق ہو گیا اور اب ہمیں پتہ نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔اگر زندہ ہیں تو اِس وقت کہاں ہیں۔تحریک جدید کے بعض مبلغین اس وقت دشمن کے ہاتھوں میں قیدی ہیں۔سٹریٹ سیٹلمنٹ میں ہمارے مبلغ مولوی غلام حسین صاحب ایاز تھے ، جاوا سماٹرا میں مولوی شاہ محمد صاحب اور ملک عزیز احمد صاحب گئے تھے اور یہ تینوں اس وقت جاپانیوں کی قید میں ہیں۔تو گویا یہ تین قید ہیں اور ایک اس وقت تک لاپتہ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس دس سال کے عرصہ میں سلسلہ کو خاص ترقی دی اور احمدیت کا نام اور اس کی شہرت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دیا۔اور یہ ایک ایسی غیر معمولی کامیابی ہے کہ جس کی مثال ہمارے سلسلہ کے دورِ خلافت میں نہیں ملتی۔مگر یہ کام اس قسم کا نہیں کہ آج ہی ہم اسے ختم کر دیں۔بے شک ہم نے ایک من ریز رو فنڈ تو قائم کیا ہے مگر کام کی وسعت کے مقابلہ میں یہ بہت ہی کم ہے۔سندھ میں زمینداری کا کام ابھی نیا نیا ہے اور یہ کام کرانے والے بھی ابھی نئے ہیں اور زمیندارہ کام سے ناواقف ہیں بلکہ کام کرنے والے بھی ابھی ناواقف ہیں۔اس لیے وہاں زمین کی آمد ا بھی پنجاب کی زمینوں کی آمد کی نسبت دسواں بیسواں حصہ بھی نہیں اور اس وقت گل آمد پچاس ساٹھ ہزار روپیہ سے زیادہ نہیں۔اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں زمین کا کچھ حصہ ابھی ایسا ہے جس کی قیمت بھی ابھی ادا کرنی ہے۔کچھ قرضے بھی ہیں اور اندازہ ہے کہ جب ساری زمین پوری طرح آزاد ہو جائے گی اور قرضے وغیرہ اتر جائیں گے تو لاکھ سوا لاکھ روپیہ تک آمد ہو سکے گی۔ابھی چار لاکھ روپیہ کے قریب بار اس زمین پر ہے۔گو کچھ روپیہ ہمارے پاس محفوظ بھی ہے میں