خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 702 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 702

$1944 702 خطبات محمود مگر اسے نکال کر بھی دو اڑھائی لاکھ روپیہ کے قریب رقم قرضہ کی ہے اور ہم نے ادا کرنا ہے۔اور اس عرصہ میں جو اخراجات ہوں گے وہ علاوہ ہیں۔جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں ہمارے سامنے جو کام ہے وہ بہت بڑا ہے اور ہماری ذمہ داریاں بہت زیادہ ہیں۔ابھی تک ہم ہندوستان سے باہر تبلیغ کی طرف بہت تھوڑی توجہ دے سکے ہیں کیونکہ اس کے لیے ابھی مبلغ تیار نہیں ہو سکے۔مگر پھر بھی اس وقت تحریک کا ستر اسی ہزار روپیہ سالانہ خرچ ہے۔اس کے علاوہ اب بعض نئے کام بھی جاری کیے گئے ہیں سال کے اخراجات علاوہ ہیں اور یہ سب ملا کر تین لاکھ کے قریب کل خرچ ہے۔اور پھر اِس کام کو چلانے کے لیے الگ روپیہ کی ضرورت ہے۔اور وہ قرضے جو ابھی ادا کرنے ہیں وہ اِس کے علاوہ ہیں اور انہیں ادا کر کے ہی زمین کو آزاد کرایا جا سکتا ہے۔پھر ریز رو فنڈ کو بڑھانے اور اسے مضبوط کرنے کی بھی ضرورت ہے۔اور یہ سب کام ایسے ہیں کہ ان کے لیے روپیہ کی سخت ضرورت ہے۔اِس عرصہ میں ہم نے تبلیغ کو وسیع کرنے کے لیے جو تیاری کی ہے اس کے سلسلہ میں چالیس کے قریب نوجوان ہیں جو تیار کیے جارہے ہیں۔ان میں سے ہیں کے قریب تو ایسے ہیں کہ جو اپنی تعلیم کو جلد ہی ختم کرنے والے ہیں اور ہیں کے قریب ابھی ابتدائی تعلیم میں حاصل کر رہے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ تین چار سال میں اپنی تعلیم کو مکمل کر سکیں گے اور می کام کے قابل ہو سکیں گے۔اس عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی حکمت کے ماتحت یہ بات بھی سمجھا دی کہ تحریک جدید کے ماتحت علماء کی تیاری کا کام کس قدر اہم ہے اور وہ اس طرح کہ اس عرصہ میں علمی لحاظ سے بعض ایسے صدمے پہنچے کہ میں نے محسوس کیا کہ اگر ہماری غفلت اسی طرح جاری رہی تو جماعت علماء سے محروم ہو جائے گی۔مولوی محمد اسمعیل صاحب کی وفات بھی اسی عرصہ میں ہوئی اور پھر میر محمد الحق صاحب فوت ہو گئے اور اس طرح پرانی طرز کے علماء میں سے صرف مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب باقی رہ گئے۔پہلے علماء میں سے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب، مولوی برہان الدین صاحب، مولوی غلام حسین صاحب، مولوی برہان الملک صاحب مشہور صرفی عالم، حضرت خلیفہ اول اور مولوی عبد القادر صاحب لدھیانوی