خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 693 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 693

خطبات محمود 693 $1944 اس طرف توجہ کریں تو جماعت کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہو جائے گی اور احمدیت کو بھی ترقی حاصل ہو گی۔یہ ذرائع ایسے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر ہم بہت جلد بغیر کسی خاص قربانی کے اپنی تبلیغ کو وسیع کر سکتے ہیں۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے ان امور کی تفصیلات میں اس جگہ بیان می نہیں کر سکتا۔ان کو علیحدہ انجمن کے سامنے انشاء اللہ بیان کروں گا۔تجارت اور صنعت و حرفت میں ترقی کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت کے افراد میں محنت اور دیانتداری کا مادہ پیدا کیا جائے اور سائنس کی تعلیم کو اس قدر وسیع کیا جائے کہ ہمارا ہر نوجوان سائنس پڑھا ہوا ہو۔اِن دو باتوں میں سے سائنس کی تعلیم کے لحاظ سے تعلیم الاسلام کالج اور اخلاق میں سے محنت اور دیانتداری کی عادت نوجوانوں میں پیدا کرنے کے لحاظ سے خدام الاحمدیہ کی مدد کی ہمیں ضرورت ہے۔خدام الاحمدیہ کا یہ ایک اہم ترین فرض ہے کہ وہ نوجوانوں میں محنت، جفاکشی اور دیانتداری کا مادہ پیدا کریں۔مجھے نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ہماری جماعت کے نوجوانوں میں محنت اور جفاکشی ہے کی عادت پیدا نہیں ہوئی۔اگر سلسلہ کا کوئی انتہائی ضروری کام بھی ان کے سپر د کیا جائے تو وہ چھ گھنٹے کام کرنے کے بعد اپنے گھروں میں چلے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اُن کا فرض ادا ہو گیا۔ان کی سمجھ میں اتنی بات نہیں آتی کہ جب ایک کام اُن کے سپرد کیا گیا ہے تو اس کے لیے چھ گھنٹے کیا اگر ان کو چومیں گھنٹے بھی کام کرنا پڑتا ہے تو کرنا چاہیے۔مگر بالعموم ایسا نہیں کیا جاتا اور دفتری اوقات میں کام کرنا ہی اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔حالانکہ زندہ قوموں میں سے ہر شخص اپنے فرض اور اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے اگر اُسے اپنی جان بھی قربان کرنی پڑے تو وہ اس سے دریغ نہیں کرتا۔انگریزوں میں قصہ مشہور ہے کہ ایک گاؤں کے پاس دریا کا ایک بند تھا جس میں ایک دن چھوٹا سا شگاف ہو گیا۔آٹھ دس سال کا ایک لڑکا شام کے وقت اُدھر سے گزر رہا تھا کہ اُس نے دیکھا بند میں شگاف ہو گیا ہے۔یہ دیکھتے ہی وہ اُسی جگہ بیٹھ گیا اور اُس نے اپنی انگلی اُس شگاف میں دے دی۔کچھ دیر کے بعد وہ شگاف اور چوڑا ہو گیا تو اُس نے اپنا ہاتھ اُس میں دے دیا اور اسی طرح وہ اُس جگہ بیٹھا رہا۔یہاں تک کہ رات ہو گئی اور شگاف پانی کے زور۔