خطبات محمود (جلد 25) — Page 692
$1944 692 خطبات محمود انجمن کے قیام کے لیے ابھی یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ایک ایک شہر میں ہزار ہزار تاجر یا صناع ہوں اور ہر شہر میں ایک ایک کمیٹی بنادی جائے۔یہ ابھی دور کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل جب ہماری جماعت میں تاجروں اور صناعوں کی زیادتی ہوئی تو اس وقت ہو سکتا ہے کہ ایک ایک شہر میں انجمن بنادی جائے۔پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ الگ الگ صوبوں کی انجمنیں بنادی جائیں۔اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آل انڈیا یا آل ورلڈ انجمن بنادی جائے۔مگر سر دست می اس کام کے چلانے کے لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لیے یہ امر نہایت ضروری ہے کہ مرکز میں اس کی ایک شاخ کھول دی جائے اور ایک سیکرٹری مقرر کیا جائے جس کا یہ فرض ہو کہ وہ جماعت کے تمام صناعوں اور تاجروں کی لسٹیں تیار کرے اور پھر اُن کو بلا کر مشورہ طلب کرے کہ کونسی تجار تہیں ہماری جماعت کے لیے مفید ہو سکتی ہیں یا کونسی صنعتیں ایسی ہیں جن کو اختیار ہے کرنے سے اسلام اور احمدیت کو طاقت حاصل ہو سکتی ہے۔اسی طرح اُس سیکرٹری کا یہ بھی کام ہو گا کہ وہ جماعت میں تجارت اور صنعت کے متعلق ایک عام تحریک کرے تاکہ لوگوں کو اس طرف توجہ پید ا ہو۔ہماری جماعت کے دوستوں میں سے اس وقت دو سو بلکہ اِس سے بھی کچھ زیادہ ایسے لوگ ہیں جو کنگز کمیشن حاصل کیے ہوئے ہیں۔جب جنگ کے ختم ہونے پر یہ لوگ ہیں واپس آئیں گے تو ان سب کو نوکریاں تو نہیں مل سکیں گی۔ان کے لیے بہترین ذریعہ معاش اس وقت یہی ہو گا کہ ان کو تجارت پر لگا دیا جائے۔اور میرے نزدیک ایسے کئی ذرائع ہیں جن کے نتیجہ میں وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکتے ہیں اور تبلیغ بھی وسیع ہو سکتی ہے۔میں نے دیکھا ہے سندھی قوم میں سے شکار پور کے رہنے والوں میں بیداری پیدا ہوئی اور وہ تجارت کے لیے باہر نکل گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یورپ میں چلے جاؤ ، افریقہ میں چلے جاؤ سب جگہ شکار پور کے تاجر موجو د ہوں گے۔اسی طرح اگر ہماری جماعت کے نوجوان غیر ملکوں میں تجارت کے لیے چلے جائیں تو وہ بھی بہت بڑے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔بیرونی ممالک کے مبلغ مجھے اطلاعات بھیجوار ہے ہیں کہ وہاں کئی قسم کی تجارتیں شروع کی جاسکتی ہیں اور کئی علاقے ہیں ؟ جہاں اگر کام کیا جائے تو بہت وسیع ہو سکتا ہے۔ایسی جگہوں میں ایک ایک دو دو نہیں بلکہ بعض میں دفعہ سوسو آدمی ہمیں یکدم بھیجنے پڑیں گے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت کے نوجوان