خطبات محمود (جلد 25) — Page 694
خطبات محمود 694 $1944 اور چوڑا ہو گیا۔تب اُس نے اپنے سارے جسم کو اُس شگاف کے سامنے ایک دیوار کی طرح رکھ دیا تا ایسانہ ہو کہ پانی بڑھ کر تمام گاؤں کو برباد کر دے۔جب صبح ہوئی تو چند زمیندار اُس طرف آنکلے اور انہوں نے دیکھا کہ لڑکے نے اُس بند کے شگاف میں اپنے آپ کو ڈالا ہوا ہے اور خود بیہوش پڑا ہے۔چنانچہ انہوں نے بچے کو نکالا اور اُس شگاف کو بند کر دیا۔اب دیکھو! وہ آٹھ دس سال کا بچہ تھا اور اُسے بظاہر اس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ بند ٹوٹتا ہے یا سلامت رہتا ہے مگر چونکہ وہ ایک زندہ قوم کا فرد تھا اُس نے سمجھا کہ اگر میں اِس وقت چلا گیا تو سارا گاؤں تباہ ہو جائے گا۔لیکن اگر میں اپنے آپ کو فنا کر کے اس بند کو ٹوٹنے سے محفوظ رکھتا ہوں تو گاؤں بچ جائے گا۔چنانچہ اُس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دیا اور سارے گاؤں کو بچالیا۔وہ لڑ کا اگر زندہ رہتا اور یہ کام نہ کرتا تو آج دنیا میں کوئی اس کا نام بھی نہ جانتا۔مگر آج سارے انگریز وہ نظمیں پڑھتے ہیں جن میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ وہ لڑکا ایسا بہادر تھا، ایسا بہادر تھا۔تو اُسے اپنی اس قربانی کا جو بدلہ ملاوہ ایسا شاندار ہے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو یہ بدلہ اُسے کبھی نہ ملتا۔پس محنت اور جفاکشی اور دیانتداری کا مادہ جماعت کے ہر فرد میں پیدا کرنا نہایت ضروری ہے۔خدام الاحمدیہ کو چاہیے کہ وہ اس طرف خاص طور پر توجہ کریں اور نوجوانوں کا ہے امتحان لیا کریں کہ اُن میں محنت اور دیانت کا مادہ کہاں تک پایا جاتا ہے۔اسی طرح انہیں نوجوانوں کے اندر یہ احساس پیدا کرنا چاہیے کہ جب کوئی اہم کام ان کے سپرد کیا جائے تو پھر یہ چھ گھنٹوں کا سوال نہیں اگر چو ہیں بلکہ اڑتالیس گھنٹے بھی انہیں مسلسل کام کرنا پڑتا ہے تو کرنا چاہیے اور یہ جواب ہر گز ان کے منہ سے نہیں نکلنا چاہیے کہ چونکہ وقت ہو گیا تھا اس لیے میں ہے کام کو چھوڑ کر چلا آیا۔دوسراحصہ جو سائنس کی تعلیم کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس میں کالج والے جماعت کی مدد کر سکتے ہیں۔کالج والوں کو چاہیے کہ وہ کوشش کریں کہ جو لڑ کے یہاں ہے تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئیں وہ زیادہ سے زیادہ سائنس لیں۔یہاں تک کہ سائنس کو اتنی ترقی ہو اتنی ترقی ہو کہ ہماری جماعت کا پچاس فیصدی حصہ سائنس کو پوری طرح جانتا ہو۔جب جماعت کے نوجوان سائنس سے اِس طرح واقف ہو جائیں گے تب صنعت و حرفت کامیاب ہو گی۔سائنس کے بغیر صنعت و حرفت میں کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔