خطبات محمود (جلد 25) — Page 691
$1944 691 خطبات محمود کام کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارا تاجر اور ہمارا صناع یہ مطالبہ کرے کہ مزدوروں کو اُن کا حق دیا جائے اور ہمارا مز دور اس بات کا مطالبہ کرے کہ مزدوروں میں دیانت اور محنت کا زیادہ سے زیاد مادہ ہونا چاہیے۔اور ہم یہ طریق اپنے ہاں رائج کرنا نہیں چاہتے کہ مالک اپنا حق مانگتا پھرے اور مزدور اپنے حق کا مطالبہ کرتا رہے۔یورپ نے یہ طریق اختیار کیا اور اس کے نتیجہ میں فسادات نے ترقی کی۔اس لیے ہم یورپ کی نقل کرنا نہیں چاہتے۔ہم اسلام کا قائم کر وہ نظام ہے دنیا میں جاری کرنا چاہتے ہیں۔اور اسلام یہ ہدایت دیتا ہے کہ مزدور اپنا حق نہ مانگے بلکہ مالک کا حق ادا کرے۔مزدور یہ نہ کہے کہ میں اپنے حق کا مطالبہ کرتا ہوں بلکہ مزدور مزدوروں کو سمجھائے اور انہیں نصیحت کرے کہ تم محنت اور دیانت داری سے کام کرو۔اسی طرح مالک اکٹھے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ نہ کریں بلکہ وہ مالکوں کو سمجھائیں کہ مزدوروں کو اُن کا حق دو اور ٹھیک وقت پر دو۔اگر اس طرح مزدور اور سرمایہ دار دونوں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں تو نہ مزدوروں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے اور نہ تاجروں اور صناعوں کی حق تلفی ہو سکتی ہے۔(6) چھٹے مزدوروں کی ایک مشترکہ انجمن ہو کہ وہ آپس میں مل کر ایک دوسرے کے حقوق میں پر غور کریں۔لیکن جہاں وہ آپس میں تصفیہ نہ کر سکیں وہاں سلسلہ سے اس بات کو طے کرائیں اور قضاء کے ذریعہ باہمی اختلاف کو دور کریں۔اسلامی قانون یہی ہے کہ جب مزدور اور آقا میں کوئی جھگڑا ہو تو وہ قضاء سے فیصلہ کرائیں۔اس طرح بڑی آسانی سے آپس کے تمام تنازعات کا تصفیہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ محکمہ قضاء غیر جانبدارانہ رنگ میں غور کرتا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ ان میں سے بعض امور ابھی تشریح طلب ہیں اور پھر وہ تشریحات ایسی ہیں جن کو خطبہ میں بیان کرنا مناسب نہیں۔مثلاً ! اگر میں اس وقت بتادوں کہ فلاں قسم کے کام اگر احمدی تاجر اور صناع شروع کر دیں تو جماعت کو بہت بڑی ترقی حاصل ہو سکتی ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ دوسروں کو پتہ لگ جائے گا اور چونکہ لوگ ہمارے دشمن ہی ہیں اس لیے ان باتوں کا علم ہونے پر وہ ہمارے راستہ میں روکیں پیدا کر دیں گے۔اور بجائے اِس کے کہ ہمارے قبضہ میں وہ تجار تیں آئیں اُن تجارتوں پر وہ خود قابض ہونے کی کوشش کریں گے۔اس لیے میں تفصیلی باتیں اُسی وقت بیان کروں گا جب کمیٹی بن جائے گی۔اس مہینہ